ایم کیو ایم پاکستان کا وفد آج وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کرے گا، جس کا انعقاد شام کو وزیراعظم ہاؤس میں ہوگا۔
اس اہم ملاقات میں 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ ایم کیو ایم کے حوالے کیا جائے گا، تاکہ اس پر تبادلہ خیال اور مشاورت کی جا سکے۔ وزیراعظم شہباز شریف اس ترمیم پر ایم کیو ایم کو اعتماد میں لیں گے، اور ایم کیو ایم اپنے تحفظات سے آگاہ کرے گی۔ یہ ملاقات حکومتی اور اتحادی مذاکرات کا ایک اہم جزو ہے، اور ایم کیو ایم پارٹی مشاورت کے بعد اس ترمیم کی حمایت یا عدم حمایت کا فیصلہ کرے گی۔واضح رہے کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ حکومت آئینی ترمیم لا رہی ہے اور لائے گی، جس کا مقصد عدالتی نظام میں ابہام کو دور کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ بات چیت مکمل ہو چکی ہے اور اب دیگر اتحادیوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ یہ ترمیم حکومت کی طرف سے ہے اور کسی اور سے پیرا شوٹ نہیں ہو رہا، اور کہہ رہے تھے کہ یہ ترمیم قومی اسمبلی سے پہلے سینیٹ میں پیش کی جائے گی۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللّٰہ تارڑ نے بھی اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ 27ویں ترمیم کا بنیادی مقصد عدالتی عمل میں پیدا ہونے والی ابہام کو ختم کرنا ہے، تاکہ عدالتی نظام اور آئینی عمل میں وضاحت اور ہم آہنگی آئے۔ یہ ترمیم قانونی اور آئینی اصلاحات کے ذریعے عدلیہ کے عمل کو مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے لائی جا رہی ہے۔