برطانیہ کے وزیر دفاع جان ہیلی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور وزیراعظم کیئر اسٹارمر پر دفاعی شعبے کے لیے ناکافی مالی وسائل فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جان ہیلی نے اپنے استعفے میں مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ عالمی خطرات کے پیش نظر برطانیہ کو دفاعی شعبے میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، تاہم حکومت اور وزارت خزانہ مطلوبہ وسائل فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔اپنے خط میں انہوں نے کہا کہ مجوزہ دفاعی سرمایہ کاری منصوبہ برطانوی افواج کی ضروریات پوری نہیں کرتا، جس کے باعث ملک کی سلامتی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق انہیں حال ہی میں بتایا گیا کہ 2030 تک دفاعی اخراجات مجموعی قومی پیداوار کے 2.68 فیصد تک پہنچیں گے، جو موجودہ سکیورٹی صورتحال کے لیے ناکافی ہیں۔جان ہیلی نے خبردار کیا کہ محدود بجٹ کے باعث انہیں ایسے فیصلے کرنا پڑ سکتے تھے جو فوجی تیاری، آپریشنل صلاحیت اور اہلکاروں کی سلامتی کو متاثر کرتے، اسی لیے انہوں نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔
وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت اس سے قبل دفاعی اخراجات بڑھانے کا اعلان کر چکی ہے اور منصوبہ ہے کہ دفاعی بجٹ کو مرحلہ وار GDP کے 3 سے 3.5 فیصد تک لے جایا جائے۔سیاسی مبصرین کے مطابق یہ استعفیٰ برطانوی حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی دھچکا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب روس سمیت عالمی سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے اور نیٹو اتحادی ممالک دفاعی اخراجات بڑھانے پر زور دے رہے ہیں۔