پشاور:ترجمان پختونخوا حکومت بیرسٹر سیف نے وزیر دفاع خواجہ آصف کو بلوچستان واقعے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے خواجہ آصف کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر دفاع کا خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کو بسانے کا بیان گمراہ کن اور بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ الزامات وفاقی حکومت کی دہشت گردی کے خلاف ناکامی کو چھپانے کی ایک ناکام کوشش ہیں۔بیرسٹر سیف نے سوال کیا کہ خواجہ آصف کسی ایک دہشت گرد کی نشاندہی کریں جو خیبر پختونخوا میں بسایا گیا ہو۔ اگر وزیر دفاع کو دہشت گردوں کے بسائے جانے کا علم تھا تو ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی؟انہوں نے مزید کہا کہ وزیر دفاع صرف اسلام آباد کی سرحدوں کے نہیں بلکہ پورے ملک کی سرحدوں کے ذمے دار ہیں۔ ایسے اہم عہدے پر فائز ہونے کے باوجود خواجہ آصف دہشت گردی جیسے حساس مسئلے پر سیاسی بیان بازی کر رہے ہیں۔
بیرسٹر سیف نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ صرف بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف کو مارشل لا کے ساتھ تعاون کرنے پر معذرت کرنے کے بعد فارم 47 پر معذرت کرنی چاہیے اور ریحانہ ڈار سے بھی معافی مانگنی چاہیے۔آخر میں، انہوں نے کہا کہ وزیر دفاع کو بلوچستان واقعے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے استعفا دینا چاہیے۔