عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی، ٹرمپ کے ایران سے متعلق اعلان کے بعد سرمایہ کاروں کا ردعمل

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی، ٹرمپ کے ایران سے متعلق اعلان کے بعد سرمایہ کاروں کا ردعمل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر مجوزہ فوجی کارروائی روکنے اور مذاکرات کو ترجیح دینے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.3 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد یہ 89.17 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 1.4 فیصد کمی کے ساتھ 86.48 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔ ہفتہ وار بنیاد پر دونوں بینچ مارکس میں چار فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی۔ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں یہ کمی امریکی صدر کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران پر حملے کا منصوبہ روک دیا گیا ہے کیونکہ تہران کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ تاہم ایرانی حکام کی جانب سے کسی حتمی معاہدے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔توانائی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اعلان نے عالمی سرمایہ کاروں میں فوری طور پر اعتماد بحال کیا، جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ آیا۔ ماہرین کے مطابق صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور مارکیٹ کا رجحان مشرق وسطیٰ کی پیش رفت سے جڑا رہے گا۔

دوسری جانب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے بیانات نے عالمی توانائی منڈیوں میں تشویش برقرار رکھی ہوئی ہے۔  آبنائے ہرمز  سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے اس آبی گزرگاہ کی صورتحال عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔امریکی فوج کے مطابق تجارتی بحری جہاز اس وقت بھی آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں، تاہم خطے کی مجموعی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید کم ہوتی ہے اور کسی ممکنہ معاہدے پر پیش رفت ہوتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان ہے، جبکہ کسی بھی نئی کشیدگی کی صورت میں قیمتیں دوبارہ اوپر جا سکتی ہیں۔