ویب ڈیسک:امریکا میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں، جس کے نتیجے میں سونے اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔
سونے کی قیمت میں کمی
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد عالمی منڈی میں سونے کی قیمت 18 ڈالرز کم ہو کر 2731 ڈالرز فی اونس تک پہنچ گئی ہے۔ سونے کی قیمتوں میں یہ کمی اس وقت آئی جب ٹرمپ کی فتح نے مارکیٹ میں ایک نئی نوعیت کی مستحکم صورتحال کی امید پیدا کی۔
خام تیل کی قیمت میں کمی
اسی طرح عالمی منڈی میں خام تیل کی فی بیرل قیمت بھی کم ہو کر 70.82 ڈالرز ہو گئی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں 1.17 ڈالرز کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی منڈی میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے اور تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے۔
ڈاؤ جونز کی کارکردگی
امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بھی مثبت رجحان دیکھنے کو آیا ہے، جہاں ڈاؤ جونز انڈیکس 1114 پوائنٹس کے اضافے سے 46,495 کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔ یہ اضافہ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد سرمایہ کاروں کی طرف سے مارکیٹ میں زیادہ سرمایہ کاری کے امکانات کے بڑھنے کی وجہ سے ہے۔
ٹرمپ کی انتخابی کامیابی
واضح رہے کہ 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار کامیاب ہوئے ہیں اور امریکا کے 47 ویں صدر منتخب ہوئے ہیں۔ ٹرمپ نے 277 الیکٹورل ووٹ حاصل کر کے وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کی راہ ہموار کی۔ اس کے ساتھ ہی، ری پبلکن پارٹی نے سینیٹ میں اکثریت حاصل کر لی اور ایوان نمائندگان میں بھی واضح برتری حاصل کی۔
ویب ڈیسک:امریکا میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں، جس کے نتیجے میں سونے اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔
سونے کی قیمت میں کمی
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد عالمی منڈی میں سونے کی قیمت 18 ڈالرز کم ہو کر 2731 ڈالرز فی اونس تک پہنچ گئی ہے۔ سونے کی قیمتوں میں یہ کمی اس وقت آئی جب ٹرمپ کی فتح نے مارکیٹ میں ایک نئی نوعیت کی مستحکم صورتحال کی امید پیدا کی۔
خام تیل کی قیمت میں کمی
اسی طرح عالمی منڈی میں خام تیل کی فی بیرل قیمت بھی کم ہو کر 70.82 ڈالرز ہو گئی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں 1.17 ڈالرز کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی منڈی میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے اور تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے۔
ڈاؤ جونز کی کارکردگی
امریکی اسٹاک مارکیٹ میں بھی مثبت رجحان دیکھنے کو آیا ہے، جہاں ڈاؤ جونز انڈیکس 1114 پوائنٹس کے اضافے سے 46,495 کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔ یہ اضافہ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد سرمایہ کاروں کی طرف سے مارکیٹ میں زیادہ سرمایہ کاری کے امکانات کے بڑھنے کی وجہ سے ہے۔
ٹرمپ کی انتخابی کامیابی
واضح رہے کہ 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار کامیاب ہوئے ہیں اور امریکا کے 47 ویں صدر منتخب ہوئے ہیں۔ ٹرمپ نے 277 الیکٹورل ووٹ حاصل کر کے وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کی راہ ہموار کی۔ اس کے ساتھ ہی، ری پبلکن پارٹی نے سینیٹ میں اکثریت حاصل کر لی اور ایوان نمائندگان میں بھی واضح برتری حاصل کی۔
خلاصہ
ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں، جس کے نتیجے میں سونے اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے، اور امریکی اسٹاک مارکیٹس میں ایک مثبت رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ان تبدیلیوں نے عالمی اقتصادی منظرنامے پر بھی اثر ڈالا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں، جس کے نتیجے میں سونے اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے، اور امریکی اسٹاک مارکیٹس میں ایک مثبت رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ان تبدیلیوں نے عالمی اقتصادی منظرنامے پر بھی اثر ڈالا ہے۔