حکومتی ذرائع نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو علاج کی غرض سے اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے کسی اسپتال منتقل کیے جانے کی خبروں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔
اس سے قبل بعض ذرائع ابلاغ میں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ عمران خان کو سخت سکیورٹی میں اڈیالہ جیل سے اسلام آباد منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز
(پمز) اور الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتالکے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم ان کا طبی معائنہ کرے گی۔ تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور عمران خان کی کسی اسپتال منتقلی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔یاد رہے کہ رواں سال 3 مارچ کو پمز اور الشفا آئی ہسپتال کے ماہرین نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کی آنکھ کا فالو اپ طبی معائنہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق ماہر امراض چشم ڈاکٹر عارف اور ڈاکٹر ندیم قریشی نے ان کی بینائی اور آنکھ کی مجموعی صحت کا جائزہ لیا تھا۔طبی معائنے کے دوران مختلف ٹیسٹ کیے گئے تھے، جن کے بعد ڈاکٹروں نے عمران خان کی بینائی پر اطمینان کا اظہار کیا تھا اور کسی تشویشناک طبی مسئلے کی نشاندہی نہیں کی تھی۔
دوسری جانب عمران خان سے ملاقاتوں کے معاملے پر بھی سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق علی امین گنڈا پور کی عمران خان سے ممکنہ ملاقات کے حوالے سے وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ایک بار پھر رابطے ہوئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے اعلیٰ سطحی حکام نے پی ٹی آئی قیادت سے رابطہ کیا ہے، جبکہ آئندہ چند گھنٹوں میں اس حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کو بھی اس سلسلے میں ہونے والے رابطوں سے آگاہ رکھا گیا ہے۔