وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ اگر اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کا مستقل احتجاج جاری رہا تو حکومت اس پر غور کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے کہ عمران خان کو جیل منتقل کیا جائے۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے بطور جماعت اور عمران خان نے اداروں پر براہ راست تنقید کی ہے، اور اداروں کے خلاف بات چیت کو عوام پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت ہمارا دشمن ملک ہے، لیکن عمران خان نے پراپیگنڈے میں اس کا ساتھ دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی سے بات چیت کا کوئی مؤثر طریقہ کار اپنایا نہیں گیا، حالانکہ ماضی میں کوشش کی گئی تھی، لیکن عمران خان کے بیانات کی وجہ سے ڈیڈ لاک کی صورتحال پیدا ہوئی۔رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ اگر پی ٹی آئی اور عمران خان 9 مئی کے واقعات اور اپنے بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کریں اور معذرت کریں، تو شاید حالات بہتر ہو سکیں اور حکومت جیل منتقلی کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔
لیکن اگر عمران خان اپنے بیانات پر قائم رہتے ہیں اور احتجاج جاری رکھتے ہیں تو ڈیڈ لاک برقرار رہے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلاول بھٹو کی سوچ ہمیشہ سیاسی اور جمہوری رہنمائی کی حامل رہی ہے، اور انہوں نے ہمیشہ افہام و تفہیم کی بات کی ہے۔ رانا ثنا اللہ نے زور دیا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو بات چیت کرنی چاہیے کیونکہ ڈی جی آئی ایس پی آر بھی کہہ چکے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کو آپس میں بات چیت کرنی چاہیے۔