بھارت غیرذمہ دارانہ بیانات سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے‘ پاکستان کی طرف ایک قطرہ بھی پانی نہ پہنچنے دینے کے بیان کو مسترد کرتے ہیں
مشرق وسطی میں کشیدگی پرتشویش‘مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے،مشرقِ وسطی میں جنگ بندی کا احترام کیا جائے:ترجمان کی بریفنگ
اسلام آباد(آئی این پی )ترجمان دفترخارجہ طاہر اندرابی نے کہاہے پاکستان کو مشرق وسطی میں کشیدگی پرتشویش ہے،ایران ،امریکہ مذاکرات کے حوالے سے اب بھی پرامید ہیں ، فریقین مذاکرات اور ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں ،مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے،مشرقِ وسطی میں جنگ بندی کا احترام کیا جائے، پاکستان کی طرف ایک قطرہ بھی پانی نہ پہنچنے دینے کے بیان کو مسترد کرتے ہیں بھارت کی آبی جارحیت جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں ڈال دے گی، کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، بھارت غیر ذمہ دارانہ بیانات کے ذریعے مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے،50 روز سے صومالی قزاقوں کی قید میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کا معاملہ انتہائی پیچیدہ ہے، حکومت تمام ممکنہ سفارتی اور ادارہ جاتی سطح پر کوششیں کر رہی ہے ۔ان خیالات کااظہار ترجمان دفترخارجہ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کیا ۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایران-امریکہ مذاکرات کے حوالے سے اب بھی پرامید ہے، اگرچہ ان میں درپیش چیلنجز سے آگاہی بھی ہے۔ ترجمان کے مطابق پاکستان مختلف فریقین کے ساتھ رابطے میں ہے اور سفارت کاری کے لیے گنجائش کم ہونے کے باوجود مثبت کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ فریقین کو امن کو ایک اور موقع دینا چاہیے اور مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ترجمان نے مشرقِ وسطی میں جاری کشیدگی پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پرامن حل کے لیے پرامید ہے اور ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے کہا مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے حال ہی میں ایران کا دورہ کیا، جبکہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ایران سمیت خطے کے دیگر وزرائے خارجہ کے ساتھ رابطے جاری ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ لبنان کے آرمی چیف نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا، جسے دو طرفہ تعلقات کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ بھارت غیرذمہ دارانہ بیانات سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے، کشمیر عالمی سطح پرتسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، یو این سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کشمیر کے عوام سے حق خودارادیت کاوعدہ کیا گیا، کشمیر سے متعلق بھارتی بیانات کی کوئی وقعت ہے نہ کوئی جواز ہے۔ پاکستان ان بیانات کو مسترد کرتا ہے۔