خطے میں نئی جنگ کا خطرہ
شیری رحمان نے حالیہ کشیدگی کے پس منظر میں کہا کہ ایک نئی جنگ کا آغاز بہت ہی خطرناک ہوسکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگوں کا اثر صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتا بلکہ دنیا کے تمام ممالک، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک، بری طرح متاثر ہوتے ہیں .
پاک–بھارت کشیدگی اور جنگ بندی
واشنگٹن میں پاکستانی سفارتی وفد کی پریس کانفرنس میں شیری رحمان نے کہا کہ پاک–بھارت جنگ بندی کو مستقل امن نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ انتہائی نازک صورتحال ہے اور کہیں بھی ٹوٹ سکتی ہے ۔
بھارتی میڈیا اور مسلح ردعمل
انہوں نے نشاندہی کی کہ بھارتی مین اسٹریم میڈیا نے جنگی جنون کو ہوا دیے رکھا، اور بھارتی قیادت خود خطرناک وعدوں میں پھنس چکی ہے .مزید بتایا کہ پاکستان کا ردعمل قانونی اور عسکری اہداف تک محدود تھا، جبکہ بھارت نے شہری علاقوں کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی جنگی قوانین کی خلاف ورزی کی .
عالمی اثرات اور سلامتی
شیری رحمان نے ایک نئی جنگ کے عالمی نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:"دو جوہری ممالک کے درمیان کسی بھی غلطی کا نتیجہ کروڑوں افراد کے لیے فوری تباہی بن سکتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ دنیا مزید جنگ کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتی، اور اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک کو عالمی امن کی خاطر ہر ممکن کردار ادا کرنا چاہیے ۔
سفارتی کردار اور مذاکرات
انہوں نے عالمی سفارتکاری کی قدر بڑھاتے ہوئے کہا کہ امریکی مداخلت نے معاملے کو قابو میں رکھنے میں مدد کی، اور پاکستان امریکہ کے صدر و وزیر خارجہ کا مشکور ہے .تاہم، ان کا کہنا تھا کہ جب تک سنجیدہ کثیرالطرفہ یا دوطرفہ مذاکراتی فریم ورک نہ ہو، امن کا حقیقی قیام ممکن نہیں ۔