شام میں نیا ڈریس کوڈ نافذ: خواتین کے لیے ساحلوں پر باحجاب لباس لازمی قرار

شام میں نیا ڈریس کوڈ نافذ: خواتین کے لیے ساحلوں پر باحجاب لباس لازمی قرار

دمشق: شام کی عبوری حکومت نے خواتین کے لیے ساحلی علاقوں اور عوامی سوئمنگ پولز پر برقینی (باحجاب تیراکی کا لباس) پہننے کو لازمی قرار دے دیا ہے۔

 اس فیصلے کا مقصد عوامی مفاد اور سماجی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ساحلی سیاحت کو ضابطے میں لانا ہے۔شامی وزیر سیاحت مازن السلحانی کی جانب سے جاری کردہ ہدایت نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ عوامی مقامات، ساحلوں اور سوئمنگ پولز پر آنے والے تمام افراد کو ایسا لباس پہننا ہوگا جو مقامی روایات، ثقافت اور سماجی اقدار سے ہم آہنگ ہو۔

خواتین کے لیے ضوابط:
خواتین کو ساحلوں یا عوامی مقامات پر جاتے وقت عبایا یا چادر پہننا لازم ہوگا۔تیراکی کے دوران صرف برقینی پہننے کی اجازت ہوگی، دیگر تیراکی کے مغربی لباس پر پابندی ہوگی۔
مردوں کے لیے ہدایات:
مرد حضرات عوامی مقامات پر نیم برہنہ یا شرٹ کے بغیر رہنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔قمیض یا مناسب لباس پہننا لازمی ہوگا۔
سیاحتی مقامات اور ہوٹلز:
فور اور فائیو اسٹار ہوٹلز، ریزورٹس اور نجی کلبوں کو محدود استثنا حاصل ہوگا جہاں مغربی لباس مخصوص حدود میں قابلِ قبول ہوگا۔
نگرانی اور نفاذ:
ان ضوابط پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے لائف گارڈز اور ساحلی سیکیورٹی عملہ تعینات کیا گیا ہے۔تاہم، ہدایات کی خلاف ورزی کی صورت میں ممکنہ سزاؤں یا جرمانوں کے بارے میں تاحال کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شام میں سیاحت کے شعبے کو دوبارہ فعال کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، اور حکومت اسے مقامی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ کرنے پر زور دے رہی ہے۔ اس نئے ڈریس کوڈ کو لے کر عوامی اور بین الاقوامی سطح پر مختلف آراء سامنے آ سکتی ہیں۔