افغانستان: ڈریس کوڈ کی مبینہ خلاف ورزی پر خواتین کی گرفتاریوں پر عالمی ردعمل

افغانستان: ڈریس کوڈ کی مبینہ خلاف ورزی پر خواتین کی گرفتاریوں پر عالمی ردعمل

افغانستان میں خواتین کے حقوق اور سماجی آزادیوں سے متعلق پابندیوں پر ایک بار پھر عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے، جہاں رپورٹس کے مطابق مختلف شہروں میں لباس کے ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام میں خواتین کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔

مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان حکومت کی جانب سے ہرات سمیت کئی علاقوں میں ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن میں خواتین کو ڈریس کوڈ سے متعلق قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر حراست میں لیا جا رہا ہے۔افغانستان میں خواتین کی صورتحال پر نظر رکھنے والے اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔اقوام متحدہ کے افغان معاون مشن  نے ہرات میں حالیہ کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لباس کے ضوابط کے نام پر خواتین کی گرفتاری اور حراست انسانی حقوق کے حوالے سے سوالات پیدا کرتی ہے۔یوناما کے مطابق شہریوں کی آزادیِ نقل و حرکت اور صنفی مساوات کو یقینی بنانا ضروری ہے، اور اس نوعیت کے اقدامات خطے میں انسانی حقوق کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

اسی طرح خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم نے بھی ان کارروائیوں کو انسانی وقار اور ذاتی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔تنظیم کے مطابق خواتین کو اپنے لباس کے انتخاب اور روزمرہ زندگی میں آزادی حاصل ہونی چاہیے، اور اس طرح کی گرفتاریوں سے معاشرتی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔افغان حکام کی جانب سے ان رپورٹس پر تاحال کوئی تفصیلی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔