افغانستان: ہرات میں خواتین پر لباس کے حوالے سے سخت نگرانی دوبارہ شروع

افغانستان: ہرات میں خواتین پر لباس کے حوالے سے سخت نگرانی دوبارہ شروع

طالبان کی مورال پولیس نے ہرات کے مختلف مصروف علاقوں میں خواتین پر لباس کے حوالے سے سخت قوانین دوبارہ نافذ کر دیے ہیں۔

اس کے تحت ’مانتو‘ پہننے والی خواتین کو پبلک میں چلنے سے روکنا، ہراساں کرنا اور بعض معاملات میں گرفتار کرنا شامل ہے۔

پابندیوں کا دائرہ:

12 سال سے 70 سال کی خواتین پر لاگو
ہرات کے اہم علاقے: پل رنگینہ، سنیما اسکوائر، گولہا اسکوائر، درب عراق، مستوفیات اسکوائر
عملدرآمد کی تفصیلات:

پولیس اہلکار خواتین کو بسوں، ٹیکسیوں اور رکشوں سے نیچے اتار دیتے ہیں اگر وہ مکمل برقع یا نماز کے پردے کے بغیر ’مانتو‘ پہنیں
ایک پولیس اہلکار نے ڈرائیور کو اس لیے تھپڑ مارا کہ اس نے مانتو پہنی خاتون کو گاڑی میں سوار کیا
کچھ خواتین کو گرفتار کر کے نامعلوم مقامات پر لے جایا گیا
مرد شہریوں کو بھی خبردار کیا گیا کہ ان کی بیٹیاں بغیر برقع گھر سے باہر نہ آئیں
متاثرہ خواتین کے تاثرات:

کچھ خواتین نے بتایا کہ وہ مکمل حجاب کے ساتھ نکلتی تھیں، پھر بھی انہیں ہراساں کیا گیا
بس یا ٹیکسی سے اتارنے کے بعد انہیں کئی گلیاں طے کر کے گھر جانا پڑا
نتائج اور اثرات:

خواتین کی آزادی محدود
خوف اور عدم تحفظ کا ماحول
روزمرہ زندگی اور صحت کی سہولیات تک رسائی پر منفی اثر