بھارتی شہر احمد آباد میں ایئر انڈیا کے بوئنگ 787-8 ڈریملائنر طیارے کے حادثے کے بعد امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کو ایک اور دھچکا لگ گیا ہے۔
پری مارکیٹ ٹریڈنگ میں بوئنگ کے شیئرز 8 فیصد تک گر گئے، جس سے کمپنی کی مالی اور ساکھ پر مبنی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب طیارہ 242 افراد کو لے کر لندن کے گیٹوک ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوا، لیکن کچھ ہی دیر بعد احمد آباد کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق حادثے کا شکار طیارہ بوئنگ 787-8 ڈریملائنر تھا، جسے دنیا کے جدید ترین اور محفوظ ترین مسافر طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔حادثے کے فوری بعد بوئنگ نے ایک مختصر بیان جاری کیا جس میں کہا گیا:"ہم ابتدائی رپورٹس سے باخبر ہیں اور مزید معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔"
ماہرین کا ردعمل:
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف بوئنگ کی ساکھ کو متاثر کرے گا بلکہ کمپنی کی مستقبل کی پیداوار اور سرمایہ کاری پر بھی سوالات اٹھا سکتا ہے۔آئی جی گروپ کے سینئر تجزیہ کار کرس بیوشمپ کا کہنا تھا:"یہ فوری ردِعمل ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ کو بوئنگ کی سابقہ حفاظتی ناکامیوں کی یاد دوبارہ ستا رہی ہے۔"بوئنگ کے حالیہ سی ای او کیلی آرتھ برگ جو کمپنی کو بحالی کے راستے پر گامزن کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اب ایک اور کڑے امتحان سے گزر سکتے ہیں۔ یہ حادثہ عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو کمزور کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بوئنگ پہلے ہی حفاظتی معیار، پیداواری تاخیر اور ریگولیٹری نگرانی جیسے مسائل کا شکار ہے۔
حادثے کی تحقیقات:
تاحال حادثے کی وجوہات کا تعین نہیں ہو سکا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مکمل تحقیق تک کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہو گا، تاہم ابتدائی اشارے مستقبل میں بوئنگ کے لیے ایک اور بھاری بحران کی خبر دے رہے ہیں۔