بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور سابق بنگلادیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے درمیان مبینہ سیاسی گٹھ جوڑ پر تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔
بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے حالیہ حالات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جوڑ خطے میں بے امنی اور انتشار کا باعث بن رہا ہے۔
محمد یونس کے الزامات
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے مودی سے درخواست کی تھی کہ حسینہ واجد کو ان کے آن لائن اشتعال انگیز بیانات سے روکا جائے، لیکن مودی نے "سوشل میڈیا آزاد ہے" کا جواب دیا ۔
یونس نے اس جواب کو لاپرواہی اور اشتعال انگیز قرار دیا، اور کہا کہ یہ صورتحال پورے جنوبی ایشیا کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ جب بنگلہ دیش بحران عروج پر تھا، تو بھارت نے سنجیدہ سفارتی کردار ادا نہیں کیا ۔
سیاسی پس منظر
حسینہ واجد موجودہ بحران کے دوران بھارت پناہ لینے کے بعد وہاں سے متنازع اعلانات کر رہی ہیں، جنہیں مودی حکومت کی کلیدی حمایت حاصل ہے۔محمد یونس کے مطابق، مودی کی خاموشی اور سیاست نے تشدد اور عدم استحکام کو ہوا دی ۔
ممکنہ اثرات
بحران نے صحت مند بھارت–بنگلا دیش تعلقات میں دراڑیں ڈالنے کی نوبت اس لیے کر دی ہے کہ:
یہ معاملہ دور دراز سیاست اور بیانیہ کنٹرول سے متعلق ہے؛
عالمی مبصرین مودی حکومت کی جانب داری پر سوال اٹھا رہے ہیں؛
یونس نے زور دیا کہ بھارت کی غیر سنجیدہ سفارتی حکمت عملی نے خطے میں استحکام کو نقصان پہنچایا ۔