پنجاب میں ورکرز کے گھروں پر چھاپے مارنا شروع کر دیے گئے: وزیرِ اعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور

پنجاب میں ورکرز کے گھروں پر چھاپے مارنا شروع کر دیے گئے: وزیرِ اعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے حالیہ بیانات میں ایک بار پھر مرکز اور پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کے کارکنان کے گھروں پر دوبارہ چھاپے مارے جا رہے ہیں، جو قابلِ مذمت ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ پنجاب کے عوام نے ہمیشہ ہر میدان میں قربانیاں دی ہیں، اور اب ایک بار پھر ان کے حوصلے اور قربانیاں نظر آ رہی ہیں۔

پریس کانفرنس یا میڈیا گفتگو کے دوران وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا:

"پنجاب میں ورکرز کو دوبارہ ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، ان کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ہم یہ سب برداشت نہیں کریں گے، اور اس کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی بنائی جائے گی۔"علی امین گنڈاپور نے مزید بتایا کہ آج انہوں نے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کیا ہے، جس میں تمام ایم پی ایز اور دیگر اہم پارٹی رہنما شریک ہوں گے۔انہوں نے کہا:"ہم اس میٹنگ میں آئندہ کی حکمتِ عملی پر تفصیلی مشاورت کریں گے، اور فیصلہ کریں گے کہ 5 اگست تک اس احتجاجی تحریک کو کس انداز میں آگے بڑھایا جائے۔ ہم سب کو سننا چاہتے ہیں تاکہ متفقہ لائحہ عمل سامنے آئے۔"
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پارٹی قیادت اور کارکنان آج بھی جیلوں میں ہیں، عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں، لیکن ان کے حوصلے بلند ہیں۔ انہوں نے مزید کہا:"ہماری کوشش جاری ہے، کامیابی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر پنجاب کھڑا ہوا تو پورا پاکستان کھڑا ہو جائے گا۔"علی امین گنڈاپور کے یہ بیانات ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب تحریکِ انصاف ایک بار پھر احتجاج کی تیاریوں میں مصروف ہے، اور پارٹی کے مرکزی قائدین بشمول عمران خان، ابھی بھی مختلف مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔