بلوچستان میں پنجاب کے شہریوں کا قتل ناقابل برداشت، ریاست کو سخت اقدام لینا ہوں گے: عظمیٰ بخاری

بلوچستان میں پنجاب کے شہریوں کا قتل ناقابل برداشت، ریاست کو سخت اقدام لینا ہوں گے: عظمیٰ بخاری

پنجاب کی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں شناختی کارڈ دیکھ کر پنجاب کے شہریوں کو چن چن کر قتل کیا جا رہا ہے، لیکن انسانی حقوق کے چیمپئنز اس ظلم پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ جب پنجاب کے لوگ مارے جاتے ہیں تو ان انسانی حقوق کے علمبرداروں کو جیسے نیند کی گولی دے دی جاتی ہے۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ حالیہ واقعے میں بلوچستان میں 9 افراد کو محض پنجاب سے تعلق رکھنے پر قتل کیا گیا، جو ایک المناک اور قابلِ مذمت سانحہ ہے۔ ان افراد کو شناختی کارڈ دیکھ کر نشانہ بنایا گیا، جو کہ نسلی بنیادوں پر ہونے والی سنگین دہشتگردی ہے۔انہوں نے کہا:"ہم ان شہداء کے خاندانوں کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں۔ ریاست کو اب بہت سخت اور مؤثر ایکشن لینا ہوگا۔ اس قسم کی کاروائیاں ملک کے اتحاد اور سالمیت کے لیے شدید خطرہ ہیں۔"
عظمیٰ بخاری نے انسانی حقوق کے عالمی اور مقامی اداروں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا:"اگر کوئی اور صوبہ ہوتا تو انسانی حقوق کے علمبردار سڑکوں پر نکل آتے، لیکن جب پنجاب کے شہریوں کو چن چن کر مارا جاتا ہے، تو سب کی زبانیں بند اور آنکھیں بند ہو جاتی ہیں۔"انہوں نے اس امر پر شدید افسوس کا اظہار کیا کہ:"ایک ہی گھر سے تین جنازے اٹھے ہیں، یہ منظر کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ لیکن کچھ لوگ اس دردناک واقعے پر بھی صرف سوشل میڈیا پر بلیم گیم میں مصروف ہیں، جو انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔"پریس کانفرنس کے دوران وزیر اطلاعات پنجاب نے یہ بھی کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی اولین ترجیح صحت کا شعبہ ہے۔ وہ صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی توجہ دے رہی ہیں اور کسی بھی معاملے میں غفلت برداشت نہیں کی جا رہی۔