کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 میں فلیٹ سے ملنے والی اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر کی لاش سے متعلق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظر عام پر آگئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اداکارہ کی موت کو 8 سے 10 ماہ گزر چکے ہیں اور ان کی لاش گلنے سڑنے کے آخری مرحلے میں تھی۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حمیرا کے جسم کی کوئی ہڈی ٹوٹی ہوئی نہیں تھی، جس سے جسمانی تشدد یا حادثاتی چوٹ کی ابتدائی طور پر کوئی واضح نشانی نہیں ملی۔ مزید شواہد اکٹھے کرنے کے لیے اداکارہ کے بال اور کپڑوں کے ٹکڑے کیمیائی تجزیے کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق لاش کی حالت ایسی تھی کہ ڈی کمپوزیشن کی وجہ سے زیادتی یا زہر جیسے شواہد کا تعین مشکل ہوگیا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ واقعے کی مزید فرانزک تحقیقات جاری ہیں تاکہ موت کی حقیقی وجوہات سامنے لائی جا سکیں۔ یاد رہے کہ 3 روز قبل اداکارہ کی سڑتی ہوئی لاش ان کے فلیٹ سے برآمد ہوئی تھی، جب محلے داروں نے فلیٹ سے بدبو آنے کی اطلاع دی۔اس کیس میں وزیر اعظم پورٹل پر بھی شکایت درج کرائی گئی ہے، جس پر آئی جی سندھ نے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ شکایت میں اداکارہ کی موت کو ممکنہ قتل اور سازش قرار دیا گیا ہے۔