انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشیوں کے استعمال کو قانونی ترامیم،سیاسی اتفاق رائے اورمسلسل تجربات سے مشروط کردیا
اسلام آباد (آن لائن) الیکشن کمیشن نے انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشیوں کے استعمال کو قانونی ترامیم،سیاسی اتفاق رائے اورمسلسل تجربات سے مشروط کردیا۔کمیشن کے مطابق ای وی ایم کا استعمال ایک بڑی سرمایہ کاری ہے اس سلسلے میں مقامی سطح پر مشینوں کی تیاری ضروری ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بائیو میٹرک ویریفی کیشن مشینوں کے استعمال سے متعلق رپورٹ منظر عام پر آگئی ہے جس میں الیکشن کمیشن نے بال پارلیمنٹ کے کوٹ میں پھینکتے ہوئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے لیے قانونی ترمیم اور سیاسی اتفاقِ رائے بنیادی شرائط قرار دیدی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے پارلیمنٹ کو پیش کی گئی رپورٹ میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے متعلق مشکلات بھی بتائی گئی ہیں ۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے دی جانے والی رپورٹ کے مطابق الیکشن ٹیکنالوجی میں ہماری مہارت محدود ہے اورٹیکنالوجی کے محفوظ، سستے اور موثر استعمال پر مشاورت لازم ہے۔ رپورٹ کے مطابق شفاف انتخابات کے لیے مضبوط اور ذمہ دارانہ ٹیکنالوجی ضروری ہے، ای وی ایم کا استعمال ایک بڑا سرمایہ کاری منصوبہ ہے اورمشینوں کی مقامی تیاری زیادہ موثر اور فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق لیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی مقامی تیاری کا عمل کئی سال لے سکتا ہے۔ ا لیکشن کمیشن نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی جلدبازی میں استعمال سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے کہاہے کہ ای وی ایم منصوبہ پارلیمنٹ کی مکمل چھان بین کے بعد شروع ہونا چاہئے اورای وی ایم کا فیصلہ عجلت میں نہ کیا جائے ۔