صرف سرحدیں غیر محفوظ ، سائبر سکیورٹی جیسے جدید خطرات کے خلاف بھی کوئی مو ثر دفاعی نظام موجود نہیں،خطاب
اسلام آباد (آن لائن) سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل (ر) زبیر محمود حیات نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی ایشیا اس وقت سلامتی اور استحکام کے شدید بحران سے دوچار ہے، جہاں نہ صرف سرحدیں غیر محفوظ ہیں بل کہ سائبر سکیورٹی جیسے جدید خطرات کے خلاف بھی کوئی مو ثر دفاعی نظام موجود نہیں۔ایک بین الاقوامی فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا آج سلامتی کا متلاشی ہے، استحکام اور امن بعد کی بات ہے۔ انہوں نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ خطے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی قسم کا کرائسز مینجمنٹ سسٹم موجود نہیں، نہ ہی سیاسی، ثقافتی، معاشی یا کھیلوں کے شعبے میں کوئی تبادلہ ہوتا ہے، جو خطے میں کشیدگی کو کم کرنے میں مدد دے سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے اختیار کردہ دووال ڈاکٹرائن اب مودی ڈاکٹرائن کی صورت اختیار کر چکی ہے، جو پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک اور جارحانہ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حملوں کے پیچھے بھارتی حکمتِ عملی کارفرما ہے، اور بھارتی فوج کی سیفرونائزیشن‘ جنوبی ایشیا میں ایک نیا سکیورٹی بحران جنم دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کو ری سیٹ کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا ری سیٹ جو خودمختاری، اعتماد، اور علاقائی ہم آہنگی پر مبنی ہو۔ انہوں نے امریکا، اسرائیل اور بھارت کے سٹریٹجک گٹھ جوڑ پر بھی تشویش ظاہر کی اور خطے میں پائیدار امن کے لیے جامع مکالمے اور اعتماد سازی کو ناگزیر قرار دیا۔