فلوٹیلا میں گرفتار پاکستانی رہا کئے جائیں شہبازشریف
فلوٹیلا میں پاکستانیوں کی باوقار شرکت کو سراہتا ہوں، مشتاق احمد ، مظہر سعید، وہاج احمد، اسامہ ریاض، اسماعیل خان، عزیز نظامی، فہد اشتیاق و دیگر نے امدادی مشن میں حصہ لیا‘ سلامتی، وقار اور جلد وطن واپسی کیلئے دعاگو اور کوشاں ہیں
آزاد کشمیر میں شہری پرامن رہیں ‘پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی و جمہوری حق ہے، مظاہرین امن عامہ کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں‘ حکومت اپنے کشمیری بھائیوں کے مسائل کو حل کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہے:وزیراعظم
اسلام آباد (آئی این پی‘آن لائن)وزیر اعظم شہباز شریف نے گلوبل صمود فلوٹیلا میں اسرائیل کے ہاتھوں گرفتار پاکستانیوں کی واپسی کا مطالبہ کر دیا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ غزہ فلوٹیلا میں پاکستانیوں کی باوقار شرکت کو سراہتا ہوں، مشتاق احمد خان، مظہر سعید، وہاج احمد، اسامہ ریاض، اسماعیل خان، عزیز نظامی، فہد اشتیاق و دیگر پاکستانیوں نے امدادی مشن میں حصہ لیا۔شہباز شریف نے کہا کہ یہ اقدام پاکستانیوں کی انصاف کیلیے جدوجہد اور مدد کے جذبے کی نمائندگی ہے، حکومت پاکستان انسانی جان کا احترام، محفوظ رسائی اور بلاتعطل امداد کے اصولوں کی حمایت کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اپنے شہریوں کی واپسی کا بھرپور مطالبہ کرتی ہے، پاکستانیوں کی سلامتی، وقار اور جلد وطن واپسی کیلیے دعاگو اور کوشاں ہیں۔واضح رہے کہ اسرائیل نے غزہ کے فلسطینیوں کیلیے امداد لے جانے والے فلوٹیلا پر دھاوا بول کر کارکنوں کو گرفتار کیا۔ قافلے میں 44 ممالک کے شہری شریک ہیں جن میں پاکستانی بھی شامل ہیں۔دریں اثناء شہباز شریف نے آزاد کشمیر کی صورتحال پر سخت نوٹس لیتے ہوئے گہری تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔ وزیراعظم نے وطن واپسی پر مذاکرات کے عمل کی نگرانی کا اعلان بھی کیا ہے۔وزیراعظم نیآزاد کشمیر میں شہریوں سے پُرامن رہنے کی زوردار اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی و جمہوری حق ہے، مظاہرین امن عامہ کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں۔ان کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مظاہرین کے ساتھ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں، عوامی جذبات کا احترام یقینی بنائیں اور غیر ضروری سختی سے اجتناب برتیں۔وزیراعظم نے کہا ہے کہ حکومت اپنے کشمیری بھائیوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔وزیراعظم نے مظاہروں کے دوران ناخوشگوار واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے۔