کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے قصبے ٹمبلر رج میں پیش آیا۔ پولیس کے مطابق مرکزی ملزمہ ایک 18 سالہ خاتون جیسی وان روٹسیلار ہے۔
قتلِ عام سے قبل خاندانی ہلاکتیں:
ملزمہ نے اسکول پر حملے سے پہلے اپنے گھر میں اپنی والدہ اور سوتیلے بھائی کو قتل کیا، اور بعد میں خودکشی کی کوشش بھی کی۔
اسکول حملہ:
ابتدائی رپورٹ کے مطابق اسکول میں 10 افراد ہلاک ہوئے، بعد میں یہ تعداد کم کر کے 9 ہلاکتیں قرار دی گئیں، جس میں ملزمہ بھی شامل ہے۔ہلاک ہونے والوں میں ایک ٹیچر اور پانچ طلبہ شامل ہیں۔زخمیوں کی تعداد درجنوں ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
ملزمہ کی ذہنی صحت:
پولیس کے مطابق ملزمہ ماضی میں ذہنی صحت کے مسائل کا شکار رہی ہے اور صوبائی مینٹل ہیلتھ ایکٹ کے تحت وقتاً فوقتاً اس کا معائنہ کیا گیا تھا۔
حکومتی ردعمل:
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے واقعے پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا اور اپنا یورپ کا دورہ ملتوی کر دیا۔سات روز تک قومی پرچم سرنگوں رکھنے کا اعلان کیا گیا۔پارلیمنٹ میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔
تاریخی پس منظر:
کینیڈا میں اسکول فائرنگ کے واقعات کم ہوتے ہیں، لیکن یہ واقعہ ملکی تاریخ کے مہلک ترین واقعات میں شمار ہو رہا ہے۔ماضی میں 2020 میں نووا اسکاٹیا میں 22 افراد ہلاک ہوئے، اور 1989 میں مونٹریال میں 14 طالبات جاں بحق ہوئیں۔
تحقیقات جاری:
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے اکیلے کارروائی کی اور مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ محرکات اور اس کے اقدامات کی مکمل تفصیل سامنے آئے۔