لاہور(نیٹ نیوز )دل کی شریان میں اسٹنٹ ڈالنے کا عمل جسے ’اینجیو پلاسٹی‘ کہا جاتا ہے، خون کے بہاؤ کو بہتر بنانے، سینے کے درد کو کم کرنے اور دل کے دورے کے خطرات کو گھٹانے کے لیے کیا جاتا ہے تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹنٹ لگوانا علاج کا اختتام نہیں بلکہ طویل المدتی نگہداشت کی شروعات ہے۔کارڈیالوجسٹس کے مطابق کورونری اسٹنٹ ایک باریک جالی نما نلکی ہوتی ہے جو تنگ یا بند دل کی شریان میں ڈالی جاتی ہے تاکہ خون آسانی سے دل تک پہنچ سکے، جدید اسٹنٹس میں دوا بھی شامل ہوتی ہے جو شریان کو دوبارہ بند ہونے سے روکتی ہے۔اسٹنٹ کے بعد کن باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے؟کیا آپ بھی ہر وقت کھانے کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں؟ ’فوڈ نوائس‘ کیا ہے اور اس سے کیسے نمٹا جائے؟امراضِ قلب کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسٹنٹ ڈلوانے کے بعد مریض کی پرانے اور مضرِ صحت معمولات کی جانب واپسی خطرناک ہو سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی سے مکمل پرہیز کریں، کیونکہ یہ اسٹنٹ میں خون کا لوتھڑا بننے کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ڈاکٹرز کی دی گئی ادویات، خاص طور پر خون پتلا کرنے والی دوائیں بغیر مشورے کے بند نہ کریں۔غیر ضروری سپلیمنٹس یا دیسی علاج خود سے استعمال نہ کریں۔ذہنی دباؤ، نیند کی کمی اور تیزی سے وزن کے بڑھنے سے بچیں۔