ہر قسم کی دہشت گردی قابل مذمت ہے، اور دہشت گردی کا اسلام یا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں
اسلام آباد (آن لائن)ملی یکجہتی کونسل کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے ترلائی خودکش دھماکے کی جوڈیشیل انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے جمعہ کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔بدھ کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل تمام مسالک کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ انسانیت کا قتل ہے‘ یہ شہادتیں پوری قوم کا مشترکہ صدمہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر قسم کی دہشت گردی قابل مذمت ہے، اور دہشت گردی کا اسلام یا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک مخصوص طبقہ اسے اسلام سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے، جو غلط ہے۔دہشتگردی کا مقصد پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا ہے اور بدامنی پھیلا کر ملک کے ایٹمی اثاثوں کو ہدف بنانا ہے۔ انہوں نے امریکہ، اسرائیل اور بھارت کی تثلیث کو دہشت گردی کے پیچھے ذمہ دار ٹھہرایا، جو عالم اسلام کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترلائی واقعے کے بعد فرقہ واریت کا تاثر دینے کی کوشش کی گئی، لیکن عوام نے مثبت کردار ادا کر کے دشمن کے عزائم ناکام بنا دیے۔ یہ اسلام آباد میں دہشت گردی کا دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ عوام پوچھ رہے ہیں کہ وہ کیوں غیر محفوظ ہیں، دہشت گرد وفاقی دارالحکومت میں کیسے داخل ہوتے ہیں اور سیکورٹی کی کمزوریوں کا ذمہ دار کون ہے انہوں نے کہا کہ حکومت اور سیکورٹی ادارے مکمل طور پر ناکام ہوئے۔ لیاقت بلوچ نے مطالبہ کیا کہ قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کیا جائے، اور ازسرنو ایکشن پلان بنایا جائے۔ ملی یکجہتی کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ جمعہ کو سانحہ ترلائی کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کا مرکزی وفد حکومتی اور سیکورٹی عہدیداروں سے ملاقاتیں کرے گا، اور صوبائی سطح پر کانفرنسز کا اہتمام ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے حکومت
زخمیوں کے لیے امداد کا اعلان کرے، اور سانحہ کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کیا جائے۔ اانہوں نے کہا کہ لخدمت فاؤنڈیشن شہداء کے بچوں کی کفالت کرے گی۔