جو ٹیکس ادا کررہا ہے اسی کو نچوڑنے اور اسی کی تذلیل کی پریکٹس جاری ہے،صدرآل پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ
کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)تاجر برادری نے انکم ٹیکس آرڈیننس کو مسترد کرتے ہوئے اسے فوری واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک گیر احتجاج کا عندیہ دے دیا۔آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ نے اپنے بیان میں نئے انکم ٹیکس آرڈینس کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت رات کے اندھیرے میں جاری کئے گئے نئے انکم ٹیکس آرڈینس کو واپس لے۔انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقہ اس وقت انتہائی مشکلات کا شکار ہے، بڑے لوگ ٹیکس دینے سے انکاری ہیں اور نہ ہی ان سے کوئی وصول کررہا ہے۔ جو ٹیکس ادا کررہا ہے اسی کو نچوڑنے اور اسی کی تذلیل کی پریکٹس جاری ہے۔اجمل بلوچ نے کہا کہ وزیر خزانہ نے ایف بی آر میں کرپشن ختم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن ہوا کچھ نہیں، فیلڈ افسران کے اختیارات میں اضافہ سے کرپشن میں مزید اضافہ ہوگا۔ پہلے ہی پوائنٹ آف سیل ڈیوائس کے نام پر کرپشن کا بازار گرم ہے۔صدر آل پاکستان تاجران نے کہا کہ جہاں بھی پوائنٹ آف سیل ڈیوائس لگی ہے منتھلی کرپشن کی وصولی جاری ہے۔ ٹیکس افسران کو مزید اختیارات دینے سے مسائل میں مزید اضافہ ہوگا۔ کاروباری طبقہ اپنے حصے کا ٹیکس ادا کر رہاہے کسی کو اس کی تذلیل کی اجازت نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس ترمیمی آرڈینس واپس نہ لیا گیا تو ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کر دیں گے۔علاوہ ازیں مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چودھری نے ٹیکس افسران کو لامحدود اختیارات دینے کے معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے اس فیصلے کو معیشت دشمن قرار دے دیا۔کاشف چوہدری نے کہا کہ تاجر برادی انکم ٹیکس ترمیمی آرڈینس کو یکسر مسترد کرتی ہے، ملکی معیشت کو تباہ کرنے کے لئے ایسے اوچھے ہتھکنڈے کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔