آمدن سے زائد ٹرانزیکشنز پر کارروائی ہوگی ،نان فائلر 800سی سی کار، ٹریکٹر بھی خرید سکے گا
اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں نان فائلرز کو رکشہ، موٹر سائیکل، 800 سی سی کار اور ٹریکٹرز خریدنے کی اجازت مل گئی، کمیٹی نے کی تجویز کی منظور ی دی ، متوسط طبقے کو انکم ٹیکس سیکشن 114 سی میں ریلیف دینے کا فیصلہ کیا گیا ،نوید قمر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے ترمیمی ٹیکس لا 2024 پر بریفنگ کے دوران بتایا کہ کاروبار، ایسوسی ایشن آف پرسنز کی آمدن سے زائد ٹرانزیکشنز کی رپورٹ ایف بی آر کو کی جائے گی، ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے اسلام آباد کے تمام ہوٹلز پر پوائنٹ آف سیلز انسٹال کرنے کی تجویز ہے ،ہوٹلز کے بعد دیگر سروسز فراہم کرنے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے پی او ایس انسٹال کیا جائے گا، قائمہ کمیٹی خزانہ میں ترمیمی ٹیکس لا میں انکم ٹیکس، ر ئیل اسٹیٹ سیکٹر کیلئے تجاویز منظور کی گئیں ،کمیٹی نے ایف بی آر کو سٹاک مارکیٹ ٹرانزیکشنز ڈیجیٹلائزڈ سسٹم سے آپریٹ کرنے کیلئے تجاویز فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ، ذیلی کمیٹی کی تجویز پر پراپرٹی خریداری کیلئے تھریش ہولڈ کا اختیار ایف بی آر سے لیکر وفاقی کابینہ کے سپرد کرنے ، پراپرٹی خریداری کیلئے 130 کے برابر لیکویڈ اثاثہ جات کو ریٹرن میں ڈیکلیئر کرنے کی تجویز بھی منظور کی گئی، کمیٹی نے ترمیمی ٹیکس لا 2024 پر عملدرآمد سے قبل ایف بی آر کو ایک ماہ میں سسٹم تیار کرنے کی ہدایت کر دی، ذیلی کمیٹی کی ترمیمی ٹیکس لا میں پراپرٹی خریداری کیلئے گزشتہ اور موجودہ سال کیلئے اہل ہونے کی تجویز منظور کر لی گئی، نادرا، صوبائی ایکسائز اور لینڈ ڈیپارٹمنٹ ایف بی آر کو پراپرٹی خریداری کی ڈیٹا فراہمی میں معاونت کریں گے جس کیلئے کمیٹی کی جانب سے بھی اتھارٹیز کو ہدایات جاری کی جائیں گی، خزانہ کمیٹی نے ایف بی آر میں نئے آڈیٹرز اور ایکسپرٹ کو تعینات کرنے کی تجویز کی بھی منظوری دے دی ،چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے بتایا کہ ایف بی آر میں ہائر نئے آڈیٹرز نے ٹیکس دہندگان کی معلومات لیک کی تو فورا برطرف کیا جائے گا، کم کپیسٹی کے باعث سب کو نوٹسز نہیں بھیج سکتے ،ترمیمی ٹیکس لا سے ٹیکس نیٹ بڑھے گا، بینکوں کو کاروبار اے او پیز کیلئے ٹرانزیکشنز رپورٹ کرنے کی اضافی ذمہ داری ادا کرنا ہو گی، چیئر مین ایف بی آر نے بتایا کہ بینکوں کو رپورٹ کرنے کیلئے وزیرخزانہ کی قائم کردہ کمیٹی میں مرکزی بینک کے نمائندے شریک ہیں، کمیٹی رکن ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ ایف بی آر کے ترمیمی ٹیکس لا سے پیسہ ملک سے باہر اور معیشت بری طرح متاثر ہو گی، ترمیمی ٹیکس لا میں ظاہر کردہ آمدن سے زیادہ مالیت کی ٹرانزیکشنز کرنے والے افراد کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، ایف بی آر اس مقصد کیلئے بینکوں کی خدمات حاصل کرے گا۔بینکوں سے کہا جائے گا کہ اگر متعلقہ شخص کی ٹرانزیکشن کا حجم ایف بی آر کے ڈیٹا سے مطابقت نہیں رکھتا تو رپورٹ دیں، کاروبار اور ایسو سی ایشن آف پرسنز کیلئے ویلتھ اسٹیٹمنٹ یا ٹیکس ریٹرن میں ظاہر کردہ آمدن سے زیادہ مالیت کی ٹرانزیکشن پر رپورٹ دینا لازمی ہو گی، اجلاس کے دوران عمر ایو ب نے بولنے کی کوشش کی جس پر چیئرمین ایف بی آر نے انہیں روکا تو وہ اجلاس سے احتجاجاً واک آئوٹ کرگئے ان کیساتھ پی ٹی آئی کے دیگر ارکان نے بھی واک آئوٹ کیا، عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ہمارے ایم این ایز کا پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیا گیا ۔