پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیخ وقاص اکرم نے موجودہ حکومت کی معیشت پر سخت تنقید کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ناکام ہونے کے بعد پی ٹی آئی پر آئی ایم ایف کے معاہدوں کی ذمہ داری ڈال رہی ہے اور الزام لگا رہی ہے کہ ہم نے "بارودی سرنگیں بچھائیں"۔ شیخ وقاص اکرم نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کون سی ڈیل ختم کی گئی؟انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ آئی ایم ایف کا یہ پروگرام ان کا آخری ہوگا، لیکن دراصل موجودہ وزیراعظم نے تین سالوں میں چار آئی ایم ایف پروگرامز کیے ہیں۔ اس تنقید کا مقصد حکومت کی معیشت پر پالیسیوں کی ناکامی کو بے نقاب کرنا تھا۔مشیر خزانہ خیبر پختونخوا، مزمل اسلم نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے کم شرحِ نمو موجودہ حکومت کے تحت آئی ہے۔ انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ معیشت کو بحال کرنے والے بتائیں کہ ایسا کیسے ہوا کہ ملک کی اقتصادی ترقی کی شرح اتنی کم ہو گئی۔
مزمل اسلم نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں 6 فیصد سے زیادہ شرح نمو تھی، لیکن موجودہ حکومت کے تین سالوں میں آئی ایم ایف سے چار پروگرامز کیے گئے اور ہر سال صنعتی ترقی منفی رہی، جس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بے روزگاری میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے باعث ہر سال لاکھوں لوگ ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔اس بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے اور اسے معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دے رہی ہے۔