غزہ کو تباہ کیا جا رہا ہے،عالمی برادری فوری و ضروری اقدامات کرے: عاصم افتخار

 دو ملین سے زائد افراد، جن میں نصف بچے ہیں، فاقہ کشی اور تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے میں محصور ہیں،مقبوضہ علاقوں میں مستقل اور غیر مشروط جنگ بندی فوری ضرورت
فلسطینی عوام ، بچے دیکھ رہے ہیں، آئیے ہم انہیں مایوس نہ کریں، امن، انصاف اور انسانیت کی خاطر اقدام کریں،اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا خطاب
 نیویارک (آئی این پی )اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ غزہ کو منظم انداز میں تباہ کیا جا رہا ہے، عالمی برادری  وہاں انسانی امدادی کارکنوں کے تحفظ اور فلسطینی عوام کی حالتِ زار کو ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے غزہ کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا ۔عاصم افتخار نے ان مشکل حالات میں خدمات سرانجام دینے والے اقوام متحدہ اور انسانی امدادی کارکنوں کی غیر معمولی جرات کو خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل ٹام فلیچر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال قابض طاقت کی جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور جاری نسل کشی کا مظہر ہے، جو مکمل استثنیٰ کے ساتھ جاری ہے۔پاکستان کے مستقل مندوب نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کو منظم انداز میں تباہ کیا جا رہا ہے اور دو ملین سے زائد افراد، جن میں نصف بچے ہیں، فاقہ کشی اور تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے میں محصور ہیں۔4لاکھ70ہزار افراد کو شدید قحط کا سامنا ہے جبکہ ہر تین میں سے ایک بچہ، جو دو سال سے کم عمر کا ہے، شدید غذائی قلت کا شکار ہے۔ پورا انسانی امدادی ڈھانچہ جان بوجھ کر تباہ کر دیا گیا ہے جبکہ آٹے اور ایندھن کی کمی کے باعث ڈبلیو ایف پی کے تمام 25 تندور بند ہو چکے ہیں۔ عاصم افتخار نے ہسپتالوں، امدادی قافلوں اور انسانی کارکنوں پر جاری حملوں میں انرواکے 290اہلکاروں کی ہلاکت کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی منظم خلاف ورزیاں ہیں۔انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے، اسرائیل کے مجوزہ فوجی امداد رابطہ نظام کو تنقید کا نشانہ بنایا، جو امداد کی رسائی کو محدود کر کے انسانی امداد کو دبا اور جبری نقل مکانی کے ایک ہتھیار میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔پاکستان نے فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ میزبانی میں آئندہ ہونے والی جون کانفرنس کی بھی حمایت کی اور امید ظاہر کی کہ یہ کانفرنس فلسطینی ریاست کے قیام، مقدس مقامات کے تحفظ اور غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کے خاتمے کے لیے ایک قابل اعتماد اور وقت پر مبنی روڈمیپ فراہم کرے گی۔عاصم افتخار نے سلامتی کونسل اور عالمی برادری کو یاد دلایا کہ دنیا دیکھ رہی ہے، فلسطینی عوام دیکھ رہے ہیں، بچے دیکھ رہے ہیں۔ آئیے ہم انہیں مایوس نہ کریں۔ آئیے امن، انصاف اور انسانیت کی خاطر اقدام کریں۔