بشریٰ بی بی آج اچھے بچوں کی طرح خاموش ہیں:عظمیٰ بخاری

 بشریٰ بی بی آج اچھے بچوں کی طرح خاموش ہیں:عظمیٰ بخاری

وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے بشریٰ بی بی پر شدید تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ آج "اچھے بچوں کی طرح خاموش" ہیں، جبکہ 26 نومبر کو وہ "جھانسی کی رانی بننے" کا دعویٰ کر رہی تھیں۔

عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں کہا کہ بشریٰ بی بی نے اپنی بہن اور ترجمان کے ذریعے پارٹی کو چارج شیٹ کیا تھا، لیکن آج وہ خود چپ ہو گئی ہیں۔عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ 24 اور 26 نومبر کو جوشیلے خطاب کرنے والی بشریٰ بی بی آج صحافیوں کے سوالوں پر ایک لفظ بھی نہیں بول سکیں۔ وزیرِ اطلاعات نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ بشریٰ بی بی میڈیا کو بتاتیں کہ ڈی چوک سے بھاگنے کا منصوبہ ان کا تھا یا علی امین گنڈاپور کا تھا؟ اور کیوں وہ ڈی چوک سے دوڑنے پر مجبور ہوئیں؟

عظمیٰ بخاری نے ن لیگ کی قیادت کی طرف سے بشریٰ بی بی کی سیاسی سوچ اور فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی غیر سیاسی سوچ اور غیر سیاسی فیصلوں نے پی ٹی آئی کو تقسیم کر دیا ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے "انقلاب فروم ہوم" کی بھی مذمت کی، اور کہا کہ یہ انقلاب صرف ایک ماہ میں ایک بار انگڑائی لیتا ہے، لیکن جیسے ہی ریاست اپنی رٹ قائم کرتی ہے، انقلاب دم دبا کر بھاگ جاتا ہے۔یہ بیان پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی طرف سے سیاسی جلسوں اور تحریکوں کے دوران کیے جانے والے بیانات اور وعدوں کے پس منظر میں آیا ہے، جہاں ن لیگ نے ان کی قیادت پر تنقید کی ہے اور ان کے موقف کو غیر مستحکم قرار دیا ہے۔