وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پی ٹی آئی رہنما بشریٰ بی بی پر شدید تنقید کرتے ہوئے سوال کیا کہ وہ کس حیثیت میں عوام میں چیک تقسیم کر رہی ہیں؟
اپنے ایک بیان میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے فنڈز کو فوٹو سیشن اور تشہیر کے لیے استعمال کرنا شرمناک ہے، جو کہ عوامی وسائل کا غیر ذمہ دارانہ استعمال ہے۔عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ وہ جن لاکھوں افراد کا لشکر ساتھ لے کر آئی تھیں، ان کا کیا ہوا؟ 24 نومبر کی بغاوت کے دوران کم از کم 2 ارب روپے سے زائد خرچ کیے گئے، جو کہ اس پورے عمل کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے 26 نومبر کی رات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم نے بشریٰ بی بی کو ڈی چوک سے بھاگتے ہوئے دیکھا، اور ان کے اپنے ورکروں نے ان کی گاڑی پر پتھر اور ڈنڈے مارے تھے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاست داخلی انتشار کا شکار ہے۔