اگر طالبان کی طرح الجہاد کے نعرے لگائیں گے تو برتاؤ بھی ویسا ہی ہوگا، عظمیٰ بخاری

اگر طالبان کی طرح الجہاد کے نعرے لگائیں گے تو برتاؤ بھی ویسا ہی ہوگا، عظمیٰ بخاری

ویب ڈیسک:صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے اندر "الجہاد" کے نعرے لگائے جانے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر طالبان کی طرح "الجہاد" کے نعرے لگائے جائیں گے تو ان کے ساتھ بھی ویسا ہی برتاؤ کیا جائے گا جیسا کہ طالبان کے ساتھ کیا گیا تھا۔

 انہوں نے یہ بیان لاہور میں ڈی جی پی آر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران دیا۔

سیاسی تنقید:
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ایک خاتون اتنی غیر سیاسی ہیں کہ وہ گھر بیٹھ کر عمران خان کو ریموٹ سے چلاتی تھیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر سیاست کرنی ہے تو اسے کھل کر کرنا چاہیے کیونکہ سیاست دل گردے کا کام ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ کریں کہ سیاست کرنی ہے یا حلیمہ خان نے سیاست کرنی ہے، اور اس طرح کی منافقت سے گریز کریں۔
بشریٰ بی بی اور دیگر سیاسی رہنماؤں پر تنقید:
عظمیٰ بخاری نے بشریٰ بی بی سے سوال کیا کہ کیا وہ اپنے بچوں کو ساتھ لے کر چلیں گی؟ اور کیا بیرسٹر گوہر بھی اپنی فیملی کو مرنے مارنے کے لیے ساتھ لائیں گے؟
انہوں نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی اور دیگر سیاسی رہنماؤں کو سرکاری ملازمین کو پیسے دے کر لانے کے بجائے "جہاد کا اعلان" قاسم اور سلیمان ٹیرین کے ساتھ کرنا چاہیے۔
عوامی مسائل اور مہنگائی کے حوالے سے حکومتی اقدامات:
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جب ملک میں عوامی مسائل اور مہنگائی کم کرنے کے حوالے سے خبریں آنا شروع ہوتی ہیں تو دوسری طرف ایسے مسائل کو خبر بنا دیا جاتا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔انہوں نے مزید کہا کہ ملکی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو رہی ہے اور اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی سنگل ڈیجٹ تک آ گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں اقدامات:
عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت صحت کے حوالے سے اجلاس جاری ہے، اور اس سلسلے میں ایک نیا پروگرام شروع کیا جا رہا ہے جس کے تحت ڈائلسز کے مریضوں کو 10 لاکھ روپے تک کا علاج فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ صوبہ پنجاب میں 25 سے 30 فیصد مریض دوسرے صوبوں سے ڈائلسز کی سہولت کے لیے آتے ہیں، اور وزیر اعلیٰ کی خاص ہدایات ہیں کہ دوسرے صوبوں سے آنے والے مریضوں کا خاص خیال رکھا جائے۔مزید برآں، گھر بیٹھے لوگوں کو انسولین فراہم کرنے کے پروگرام پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں حکومت کی عوامی فلاح کے لیے کی جانے والی کوششوں کو اجاگر کیا اور سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ حقیقت سے ہٹ کر سیاست کرنے کی بجائے عوام کے مسائل پر توجہ دیں۔