شام کی 80فیصد بری اور بحری فوجی صلاحیت کو تباہ کر دیا ،اسرائیلی فوج کا دعویٰ ، نئے حکمرانوں کو ایران سے دوستی کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی، وزیر اعظم نیتن یاہو
کیمیکل ہتھیاروں کو نشاندہی کے بعد تلف کر دیا جائیگا،وائٹ ہائوس ،اقوام متحدہ اور دیگرممالک نے شام کی گولان پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کی مذمت
دمشق؍تل ابیب؍ واشنگٹن(آئی این پی)بشارالاسد کے اقتدارکے خاتمے کے بعد اسرائیل کی جانب سے شام پر حملوں میں تیزی آئی اور گذشتہ 48 گھنٹوں میں 480 حملے کیے گئے۔اسرائیلی فوج کی شام کے بفر زون میں پیش قدمی جاری رہی، کئی علاقوں پر قبضہ جما لیا۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ شام کی 80 فیصد بری اور بحری فوجی صلاحیت کو تباہ کر دیا ہے۔اقوام متحدہ قطر،عراق اور سعودی عرب نے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کی شدید مذمت کی۔ رپورٹس کے مطابق شام کی گولان کی پہاڑیوں پر بفرزون سے باہر نکل کر اسرائیلی ٹینک دمشق سے 25کلو میٹر کے فاصلے تک پہنچ گئے جبکہ قبضے میں توسیع کے اسرائیلی عزائم لیے اسرائیل نے جنوبی شام میں دفاعی زون بنانے کا بھی اعلان کردیا ہے۔دریں اثناء ایران کے شامی جنگجوئوں سے تعلقات کے عندیہ پر اسرائیل کا پارہ ہائی ہوگیا۔اسرائیلی وزیراعظم نے دھمکی دیتے ہوئے کہاکہ شام کے نئے حکمرانوں کو ایران سے دوستی کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی، ایران سے دوستی کے متبادل شامی حکمرانوں کا حشر بشارالاسد سے بھی بھیانک ہوگا۔ ادھر وائٹ ہائوس نے کہا ہے کہ شام میں کیمیکل ہتھیاروں کو نشاندہی کے بعد تلف کر دیا جائے گا۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے شام کے بحران پر عالمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے اردن، متحدہ عرب امارات، اور شامی اپوزیشن کے رہنمائوں سے ٹیلیفونک رابطے کیے۔امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اردن کے وزیر خارجہ ایمن صفادی سے بات چیت کی جس میں شام کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔امریکی وزیر خارجہ نے متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان سے بھی ٹیلیفون پر رابطہ کیا۔ دونوں رہنمائوں نے شام کے بحران اور عام شہریوں بالخصوص کمزور کمیونٹیز کے تحفظ پر تبادلہ خیال کیا۔بائیڈن انتظامیہ نے پہلی مرتبہ شامی اپوزیشن سے بھی رابطہ کیا ہے۔