صاحبزادہ شہزادہ بٹ
کسی بھی قوم کی زندگی میں نوجوان محض عمر کے ایک مرحلے کا نام نہیں، بلکہ توانائی، امید، تخلیقی صلاحیت، جدت، عزم اور تبدیلی کی سب سے بڑی علامت ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں نے اپنے نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، مواقع اور اعتماد دیا، وہاں نوجوانوں نے نہ صرف اپنی زندگیوں کو بدلا بلکہ قوموں کی سمت بھی تبدیل کی۔اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے اقوام متحدہ ہر سال 12 اگست کو عالمی یومِ نوجوانان مناتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دسمبر 1999ء میں قرارداد 54/120 کے ذریعے 12 اگست کو عالمی یومِ نوجوانان قرار دیا، جبکہ پہلا عالمی یومِ نوجوانان 12 اگست 2000ء کو منایا گیا۔ اس دن کا مقصد دنیا بھر میں نوجوانوں کے مسائل، حقوق، صلاحیتوں اور معاشرے میں ان کے کردار کو اجاگر کرنا ہے۔رواس سال کے عالمی یومِ نوجوانان کا موضوع ہے:مختلف حالات، مشترکہ خواہشات‘‘یہ موضوع اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ دنیا کے نوجوان مختلف معاشی، سماجی، جغرافیائی اور ثقافتی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، مگر ان کی بنیادی خواہشات بڑی حد تک مشترک ہیں: معیاری تعلیم، باعزت روزگار، صحت، تحفظ، عزتِ نفس، مساوی مواقع، فیصلہ سازی میں شرکت اور ایک پْرامن و پائیدار مستقبل۔پاکستان بھی ایک نوجوان ملک ہے۔ ہماری نوجوان آبادی ہمارے لیے ایک عظیم موقع ہے، مگر ساتھ ہی ایک بڑا امتحان بھی۔ بے روزگاری، مہنگائی، معیاری تعلیم تک غیر مساوی رسائی، فنی تربیت کی کمی، ڈگری اور روزگار کی ضروریات میں فرق، میرٹ کے مسائل، محدود معاشی مواقع اور مستقبل کے بارے میں بے یقینی نوجوانوں کے اہم مسائل ہیں۔تعلیمی اداروں میں پْرامن ماحول، نصاب، فیسوں میں اضافہ اور طلبہ کے مسائل بھی توجہ طلب ہیں۔ نوجوانوں کو صرف ڈگری نہیں، بلکہ ایسا نظام چاہیے جو انہیں ہنر، تحقیق، ٹیکنالوجی، روزگار اور کاروبار کے مواقع تک پہنچائے۔اسی طرح نوجوانوں کی مکمل شخصیت سازی صرف کتاب اور کلاس روم سے نہیں ہوتی۔ کھیل کے میدان، جسمانی صحت، ورزش اور غیر نصابی سرگرمیاں بھی ضروری ہیں۔ کھیل نوجوانوں میں نظم و ضبط، ٹیم ورک، برداشت، قیادت اور مقابلے کا حوصلہ پیدا کرتے ہیں، جبکہ تقریری، ادبی، ثقافتی، سائنسی اور رضاکارانہ سرگرمیاں ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو سامنے لاتی ہیں۔ اس لیے نوجوانوں کی پالیسی میں تعلیم کے ساتھ صحت، کھیل اور غیر نصابی سرگرمیوں کو بھی بنیادی اہمیت ملنی چاہیے۔نوجوانوں کے حقوق میں معیاری تعلیم، اظہارِ رائے، مساوی مواقع، باعزت روزگار، تحفظ، انصاف اور فیصلہ سازی میں بامعنی شرکت شامل ہیں، لیکن حقوق کے ساتھ فرائض بھی وابستہ ہیں۔ نوجوانوں کا فرض ہے کہ وہ علم اور ہنر حاصل کریں، قانون کا احترام کریں، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں، اختلافِ رائے برداشت کریں، نفرت اور تعصب سے دور رہیں اور اپنی صلاحیتیں وطن اور انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کریں۔طلبہ یونینز محض تعلیمی اداروں کے اندر نمائندگی کا ذریعہ نہیں، بلکہ نوجوانوں کو جمہوری عمل، مکالمے، اختلافِ رائے، تنظیم سازی، قیادت، مشاورت اور اجتماعی فیصلوں کا عملی تجربہ فراہم کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم بن سکتی ہیں۔ اگر انہیں قانون، نظم و ضبط اور تعلیمی ماحول کے تقاضوں کے مطابق مؤثر ضابطہ اخلاق کے تحت بحال کیا جائے تو یہ ادارے مستقبل کے سیاسی، سماجی اور قومی رہنماؤں کی تربیت میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔قومی قیادت صرف ایوانوں میں پہنچنے کے بعد پیدا نہیں ہوتی؛ اس کی بنیاد تعلیمی اداروں، معاشرتی سرگرمیوں، مکالمے اور عملی تربیت میں رکھی جاتی ہے۔ اسی لیے طلبہ کو اپنی نمائندگی، مسائل کے اظہار اور اجتماعی معاملات میں حصہ لینے کے مواقع دینا ایک صحت مند جمہوری معاشرے کی ضرورت ہے۔نوجوان اگر آج سے ہی ذمہ دارانہ قیادت، اختلافِ رائے کے احترام، مشاورت، برداشت اور اجتماعی فیصلوں کا تجربہ حاصل کریں گے تو وہ کل ملک کی قیادت زیادہ شعور، برداشت اور ذمہ داری کے ساتھ سنبھال سکیں گے۔