ویب ڈیسک: راشد منہاس روڈ پر جان لیوا حادثے کے بعد مشتعل شہریوں کی جانب سے ڈمپرز جلائے جانے کے واقعے میں پولیس کا کریک ڈاؤن دوسرے روز بھی جاری رہا۔
تفتیشی حکام کے مطابق پولیس نے یوسف پلازہ، ایف بی صنعتی ایریا اور دیگر علاقوں میں چھاپے مار کر کارروائیاں کیں، جن کے دوران 30 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ان میں سے 10 افراد کو رہا کر دیا گیا جبکہ 20 افراد ابھی زیر حراست ہیں اور ان سے تفتیش جاری ہے۔پولیس نے ڈمپرز جلانے کی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کر لی ہیں اور مزید شواہد جمع کیے جا رہے ہیں۔ تفتیشی حکام نے یقین دلایا ہے کہ کسی بے قصور کو مقدمے میں نامزد نہیں کیا جائے گا اور صرف وہی افراد قانون کے مطابق مقدمات میں شامل کیے جائیں گے جن کے خلاف ثبوت ہوں گے۔
ایس ایس پی انوسٹی گیشن انعم تجمل نے بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے قانون کے مطابق کارروائی جاری ہے اور زیر حراست کسی بھی شخص کو ابھی تک ڈمپرز جلانے کے مقدمے میں گرفتار نہیں کیا گیا۔زیر حراست نوجوانوں کے اہلخانہ نے کہا ہے کہ ان کے بچے بے قصور ہیں اور ان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں، انہوں نے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے بچوں کی فوری رہائی کا کہا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کو جلد متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ قانونی کارروائی مکمل کی جا سکے۔