9 مئی کیسز: پی ٹی آئی رہنماؤں کو قید اور جرمانے کی سزاؤں کا اعلان

9 مئی کیسز: پی ٹی آئی رہنماؤں کو قید اور جرمانے کی سزاؤں کا اعلان

ویب ڈیسک: لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے واقعات، بشمول تھانہ شادمان نذر آتش کیس اور دیگر مقدمے، میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے متعدد رہنماؤں کو مجموعی طور پر 30 سال قید اور بھاری جرمانوں کی سزائیں سنائیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چودھری، عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید کو دہشت گردی، بغاوت اور دیگر دفعات کے تحت قید بامشقت کی سزائیں دی گئیں۔

فیصلے کے مطابق:

دہشت گردی کی دفعات کے تحت: 10 سال قید
بغاوت کی دفعات کے تحت: 10 سال قید
دیگر دفعات کے تحت: 5، 3 اور 2-2 سال قید
ہر مجرم کو 5 لاکھ روپے جرمانہ (عدم ادائیگی پر مزید قید)
عدالت نے حکم دیا کہ تمام سزائیں ایک ساتھ کاٹی جائیں گی۔

مزید برآں، راحت بیکری چوک کیس میں عائشہ علی بھٹہ کو بھی قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ تھانہ شادمان کیس میں پی ٹی آئی رہنماؤں عالیہ حمزہ اور صنم جاوید کو 5-5 سال قید اور ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا دی گئی۔تاہم، دونوں مقدمات میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کو بری کر دیا گیا۔یہ سزائیں 9 مئی 2023 کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والے پُرتشدد مظاہروں کے سلسلے میں دی گئیں، جن میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور تھانہ شادمان کو آگ لگا دی گئی تھی۔