نوجوانوں کا عالمی دن اور پنجاب حکومت کے اقدامات

 ڈاکٹر جمشید نظر
پرانے لاہور کی ایک تنگ گلی میں ایک بڑھئی رہتا تھا۔ اس کے پاس لکڑی کے کئی قیمتی ٹکڑے پڑے تھے کچھ اتنے مضبوط کہ نسلوں تک چل سکتے تھے۔ ایک دن اس کے بیٹے نے کہا’’اباجی، یہ لکڑیاں بیچ کرکھانے پینے کا سامان لے آئیں ۔‘‘بڑھئی مسکرایا اور بولا’’بیٹا، یہ لکڑیاں بیچ کر ہم آج تو پیٹ بھر لیں گے مگر کل ہمارے پاس کچھ نہیں بچے گا اگر میں ان لکڑیوں سے مضبوط فرنیچر بنا کر بیچ دوں تو ہمارا پیٹ بھی بھرے گا اور آنے والے دنوں کے لیے سرمایہ بھی بچے گا۔‘‘پاکستان بھی آج ایک ایسے ہی بڑھئی کی حالت میں ہے۔ ہمارے پاس دنیا کا سب سے قیمتی خام مال موجود ہے’’ نوجوان نسل‘‘ مگر سوال یہ ہے کہ ہم اس نسل کو صرف وقتی فائدے کے لیے استعمال کریں گے یا انہیں تراش کر ایسا اثاثہ بنائیں گے جو آنے والے برسوں تک ملک کا سہارا بنارہے۔
چند سال پہلے مجھے ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا۔ وہاں ایک جاپانی پروفیسر نے سامعین سے سوال کیا’’آپ کے ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ کیا ہے؟‘‘ہال میں خاموشی چھا گئی۔ کوئی قدرتی وسائل کا ذکر کر رہا تھا، کوئی زرخیز زمین کالیکن پروفیسر کسی کے جواب سے مطمئن نہ ہوا۔ میں نے کہہ دیا’’ہمارے ملک کا سب سے بڑا سرمایہ ہمارے نوجوان ہیں۔‘‘پروفیسر مسکرایا اور بولا’’سرمایہ ہونا اور اسے سنبھالنا دو الگ باتیں ہیںاگر نوجوان سمت کے بغیر ہیں تو وہ اثاثہ نہیں، قرض بن جاتے ہیں۔‘‘ یہ سن کرسب حیرت میں پڑ گئے کیونکہ یہ بڑی دور اندیشی کی بات تھی ۔
پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے سب سے قیمتی مگر نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ہم ایک نوجوان ملک ہیں اور نوجوانوں کی شرح اس وقت تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ اقوامِ متحدہ اور ورلڈو میٹرز کے مطابق پاکستان کی آبادی رواں برس  255  ملین سے تجاوز کر سکتی ہے اور اس کا تقریباً ساٹھ فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ 68 فیصد لوگ تیس سال سے کم عمر ہیں، اور 32 فیصد صرف پندرہ سے بیس سال کی عمر کے درمیان۔ یہ کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لیے سنہری موقع ہے بشرطیکہ ہم اسے سنبھال سکیں۔دنیا ہر سال 12 اگست کونوجوانوں کا عالمی دن مناتی ہے۔ اس دن کا مقصد نوجوانوں کے مسائل سننا، ان کی صلاحیتوں کو نکھارنا اور ایسے مواقع دینا ہے جو ان کے اور ملک کے مستقبل کو روشن کریں۔ اس سال 2025 کا تھیم ہے(Local Youth Actions for the SDGs and Beyond)  یعنی نوجوانوں کی مقامی سطح پر وہ کوششیں جو عالمی مقاصدِ ترقی (SDGs) کو حقیقت میں بدل سکیں۔ دنیا کے بڑے بڑے ہدف کاغذ پر خوبصورت لگتے ہیں لیکن جب تک وہ گلی محلوں اور مقامی برادری میں عملی شکل اختیار نہ کریں وہ محض نعرے رہ جاتے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے مطابق 65  فیصد سے زیادہ ایس ڈی جی اہداف مقامی حکومتوں اور کمیونٹیز سے جڑے ہوئے ہیں اور اس خلاء کو پُر کرنے کے لیے نوجوان کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
مارچ 1948ء کو ڈھاکہ میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا’’'میرے نوجوانوں، میں تمہاری طرف توقع سے دیکھتا ہوں کہ تم پاکستان کے حقیقی پاسبان اور معمار ہو۔‘‘یہ جملہ نصیحت نہیں، ذمہ داری ہے۔ اگر نوجوان تعلیم یافتہ، ہنر مند اور برسرِ روزگار ہوں گے تو ترقی کی رفتار وہ ہوگی جو دنیا کو حیران کر دے ۔پنجاب حکومت نوجوانوں کے لیے متعدد عملی اور جامع اقدامات کر رہی ہے جس کے تحت CM Skilled Punjab منصوبے کے تحت سال  2025- 26  میں 26 ارب روپے کے فنڈز مخصوص کیے،سود سے پاک قرضوں کی کاروبار کارڈاسکیم متعارف کرائی،پنجاب بائیک سکیم ،ای روزگار پروگرام،کھیلتا پنجاب پروگرام اور نوجوانوں کے ٹیلنٹ کو پروان چڑھانے کے لئے تعلیمی کیمپس میں 100 ملین کا خصوصی فنڈ مختص کیا گیا اورPunjab Tech Expo جیسی تقریبات میں طلباء کے پروجیکٹس کو موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ان اقدامات کا مجموعی مقصد یہ ہے کہ نوجوانوں کو عملی میدان میں مواقع ، ان کی تخلیقی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارا جائے اور انہیں ایک مضبوط، مستحکم اور خود کفیل نسل میں تبدیل کیا جائے جو ملک کے روشن مستقبل کی بنیاد بن سکے۔