سید منیرحسین گیلانی
دنیا بھر میں امریکہ کے بارے میں عام تاثر تبدیل نہیں ہوا کہ طاقت کے نشے میں یہ ایک بڑی حکومت ہے، اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ مزید اتنا طاقتور ہوگیا ہے کہ انسانی حقوق، سفارتی آداب اور دسری اقوام و ممالک کی آزادی و خودمختاری کے حیا و شرم کا تو اس کے پاس سے گزر تک نہیں ہوا۔ ایک چْومکھی لڑائی ہے، جو نئے امریکی صدر نے اقتدار میں آتے ہی شروع کر دی ہے۔ حالانکہ انتخابی مہم کے دوران ان کے بارے میں مجھ سمیت بہت سے لوگوں کی محسوسات امید افزا تھیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ دنیا میں امن کا پیغام لے کر آئیں گے، لیکن کرسی اقتدار پر بیٹھتے ہی موصوف نے جو احمقانہ اقدامات اٹھائے اور احکامات جاری کئے ہیں، وہ اس کی انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدوں کے الٹ ہیں۔ آتے ہی ہر کسی کیساتھ پنگے بازی شروع کر دی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے پہلے صدارتی بیان میں کینیڈا کو 51ویں امریکی ریاست بنانے کا عندیہ دیا، پانامہ کینال اور گرین لینڈز کو بھی اپنے قبضے میں لینے کا اعلان کیا۔ البتہ اس نے ایران کیساتھ جنگ کی بجائے مذاکرات کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا، لیکن پھر دھمکیوں پر اتر آیا۔ یعنی چوری اور پھر سینہ زوری۔ مختلف مواقع پر اپنی کابینہ کا اعلان کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس کی حکومت سب سے پہلے امریکی مفادات کا تحفظ کرے گی، یہ ہر حکومت کا حق ہے مگر یہ حق امریکہ کو باقی ممالک کے بارے میں بھی تسلیم کرنا چاہیے۔ مگر چند مہینوں میں ہی اس نے اپنی تمام ابتدائی پالیسیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے دوسرے ممالک سے تجارت کے حوالے سے جس قسم کے ظالمانہ اور غیرمنصفانہ ٹیرف کا اعلان کیا ہے، دنیا میں اس پر شدید تحفظات اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر کی اسٹاک ایکسچینج میں مندی نے ڈیرے ڈال دیئے ہیں۔ علاوہ اس کے صدر ٹرمپ نے روس یوکرائین جنگ کے حوالے سے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلیفونک گفتگو خوشگوار ماحول میں کی، لیکن آج ان محبتوں اور خوشگوار تعلقات کو آگے بڑھانے کی بجائے دونوں ممالک میں پہلے سے بڑی خلیج پیدا ہو چکی ہے۔ انہی ایام میں امریکہ نے تیل کے حوالے سے جو روش اختیار کی ہے اس کا ٹارگٹ فلسطینی کاز کیلئے میدان میں کھڑا ہونیوالا صرف ایک اسلامی ملک ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں گراوٹ دن بدن بدلتی جا رہی ہے، گزشتہ چند دنوں میں بین الاقوامی منڈی میں پانچ ڈالر فی بیرل یومیہ کروڈ آئل کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے اور اب یہ قیمت 65/60 ڈالر فی بیرل پر آگئی ہیں۔ ہمارے ماہرین اقتصادیات پْراْمید ہیں کہ قیمتیں کم ہونا پاکستان کیلئے بہتری کی نشاندہی ہے۔ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ ریلیف پاکستانی عوام کو پٹرولیم مصنوعات میں ملنے کا بھی امکان ہے۔ دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان ہے کہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمت کو50 ڈالر سے بھی کم پر لایا جائے گا۔ بات تو یہ درست ہے کہ جب ہم تیل درآمد کرتے ہیں تو زیادہ قیمت کی وجہ سے ہمارا زرمبادلہ زیادہ خرچ ہوتا ہے جبکہ کم بین الاقوامی قیمت کی وجہ سے ہمارے اوپر اقتصادی بوجھ کم ہو جائے گا لیکن کچھ ماہرین یہ توجیح پیش کرتے ہیں کہ ان اقدامات سے تیل پیدا کرنے اور مہیا کرنیوالے ممالک اور کمپنیوں کو نقصان اور غریب ممالک کے عوام کو تیل سستا ہونے کی وجہ سے ریلیف ملے گا۔ لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ امریکی حکومت کی پالیسی کے پیچھے اس کی منفی چال میں صرف ایک ملک اسلامی جمہوریہ ایران کے مفادات کو نقصان پہنچانا ہے کہ جو عالمی اقتصادی پابندیوں کے باعث اپنا تیل مزید کم قیمت پر فروخت کر رہا ہے۔ کم قیمتوں کے مطالبے کے پیچھے امریکی حکومت کی چال اور سوچ ہے، اس لیے کہ ایران تیل کے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے کم سے کم زر مبادلہ حاصل کر سکے، جس کی وجہ سے وہ اپنی حمایتی مزاحمتی تحریکوں کو مختلف ذرائع سے مدد کرتا ہے، رک جائے گا یا کم ہوجائے گا اور یقینی طور پر فلسطینی محاذ کو شدید نقصان ہوگا۔ دوسری طرف سے مختلف ممالک پر عائد کردہ ٹیرف کی وجہ سے پیدا شدہ ہیجان اور مایوسی کی صورتحال کی وجہ سے تمام بین الاقوامی اقتصادی قوتیں ٹرمپ کے ان منفی اقدامات کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہیں اور شدید ردعمل کا اظہاربھی کر رہی ہیں۔ انہوں نے امریکہ پر اسی طرح کی جوابی اقدامات اٹھانے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ چونکہ امریکہ نے مختلف ممالک پر جو ٹیرف عائد کیا ہے، دنیا کے اقتصادی نظام کو درہم برہم کر رہا ہے۔ میں کسی خاص ملک کے بارے میں تفصیلی بات کسی اور موقع پر کروں گا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے ان اقدامات کی وجہ سے آج خود امریکہ اور کئی دیگر ممالک کے اندر بھی اشیائے خور و نوش کی قلت پیدا ہو چکی ہے۔ خاص طور پر برطانیہ میں انڈے گوشت تک ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ اسی طرح گوشت، خوردنی تیل کی بھی قلت کا سامنا شروع ہو چکا ہے۔ ان بین الاقوامی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کے غریبوں کی مشکلات کا جو دروازہ کھل رہا ہے، وہ بھی تشویشناک ہے۔ میں حکمرانوں سے بھی گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ نئے بین الاقوامی حالات میں اپنے ملک میں اشیائے خور و نوش کی قیمتوں کو قابو کریں اور دستیابی کو یقینی بنائیں۔ میں اس موقع پر افواج پاکستان سے بھی درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ ملک میں افرا تفری پھیلانے والی منفی قوتوں اور کالعدم تنظیموں کو لگام دیں۔ دہشت گرد خوارج کیخلاف سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے انہیں ختم کرنے کی ضرورت ہے، مظلوم عوام کیساتھ بہت ہوچکا ہے۔ ایسے اقدامات ضروری ہیں کہ پاکستان کے عوام بے خوف و خطر سفر کریں اور زندگی گزار سکیں۔ بہت برداشت کیا جا چکا ہے، اب دہشت گردوں کے ہاتھوں ملک کو یرغمال نہیں ہونا چاہیے۔ بلوچستان کے حالات سے کون واقف نہیں۔ اب صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ فوجی جوانوں پر حملوں کے ساتھ جعفر ایکسپریس پر دہشت گردی اور مسافروں کو یرغمال بنانے، پنجابی مزدوروں کی شہادت اور ایران عراق سے واپس آنیوالے زائرین پر دوبارہ حملوں کا آغاز دہشتگردوں کا معمول بنتا جا رہا ہے۔ عیدالفطر سے پہلے ایرانی بارڈر سے آنیوالی بس پر چھ پنجابی مسافروں کو شناخت کرکے باہر نکالا گیا اور پھر ان کو قتل کیا گیا، ان مقتول شہداء میں سے جامعہ المنتظر کے پہلے پرنسپل علامہ شیخ اختر عباس نجفی رحمتہ اللہ علیہ کے صاحبزادے عبدالزہرا بھی شامل تھے، جو پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھے۔ انہیں بہت اذیتیں دے کر شہید کیا گیا۔ اسی طرح سے پارا چنار کے لوگوں نے بھی جس انداز سے عید گزاری ہے، وہ ہم سب پاکستانیوں کو شرمندہ کرنے کیلئے کافی ہے۔ جس طرح کی عید غزہ کے فلسطینی عوام نے گزاری اور پوری امت مسلمہ سوائے دعا کے کچھ نہ کر سکی، اسی طرح کے حالات کا ضلع کرم کے عوام کو سامنا کرنا پڑا ہے۔ دونوں مقامات کے عوام یرغمالی بنے رہے۔ راستے بند ہیں خوراک ان پر بند ہے۔ اسرائیل فلسطینیوں کو خوراک نہیں پہنچنے دے رہا تو پاراچنار کے راستے میں بیٹھے دہشتگرد بھی پٹرول ڈیزل اشیائے خورونوش سبزیاں پہنچنے نہیں دے رہے، جس کی وجہ سے گذشتہ سال اکتوبر سے تعلیمی ادارے اور بازاربند ہیں۔ لوگ 24 گھنٹے میں ایک وقت کا کھانا کھا کر اپنا گزارا کرتے ہیں۔ کوئی روزگار کے لیے دوسرے شہر نہیں جا سکتا، سکول نہیں کھل رہے۔ جبکہ عید کے موقع پر مختلف شہروں میں پارا چنار سے تعلق رکھنے والے زیر تعلیم طلبا و طالبات بھی اپنے گھروں کو واپس عید منانے کیلئے اپنے عزیزواقارب کے پاس نہیں جا سکے، جبکہ شہریوں کی ایک بڑی تعداد پشاور، کوہاٹ، اسلام آباد اور دیگر شہروں کے ہوٹلوں میں محصور ہے، کہ کب پارا چنار کے حالات ٹھیک ہوں اور وہ واپس اپنے گھروں کو جائیں۔ گویا ایک خوف کا عالم ہے، لہٰذا حکومت اور سکیورٹی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ پارا چنار کے عوام کو تحفظ فراہم کرے۔