ماحولیات۔عالمی دن اورپنجاب حکومت کے اقدامات

 ڈاکٹر جمشید نظر
دنیا بھر میں ہر سال 5 جون کو عالمی یوم ماحولیات منایا جاتا ہے۔ یہ دن اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کے تحت 1973 سے ہر سال منایا جا رہا ہے اور اس کا مقصد ماحول کے تحفظ کے لیے شعور بیدار کرنا اور عملی اقدامات کو فروغ دینا ہے۔ 2025 میں اس دن کی میزبانی جنوبی کوریا کر رہا ہے اور اس سال کا موضوع ہے’’ پلاسٹک کی آلودگی کا خاتمہ‘‘۔یہ موضوع اس لئے رکھا گیا ہے کہ پلاسٹک آج دنیا کی سب سے سنگین ماحولیاتی آلودگیوں میں شمار ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال 400 ملین ٹن سے زیادہ پلاسٹک تیار کیا جاتا ہے جس میں سے نصف صرف ایک بار استعمال کے لیے بنایا جاتا ہے۔ اس میں سے صرف دس فیصد سے بھی کم ری سائیکل کیا جاتا ہے باقی زمین، پانی اور فضاء میں شامل ہو کر ماحولیاتی نظام کو برباد کر دیتا ہے۔ ہر سال تقریباً 11 ملین ٹن پلاسٹک جھیلوں، دریاؤں اور سمندروں میں شامل ہو جاتا ہے جو تقریباً 2200  ایفل ٹاورز کے وزن کے برابر ہے۔ تقریباً 800 سے زائد سمندری اور ساحلی اقسام اس آلودگی سے متاثر ہو رہی ہیں۔پلاسٹک آلودگی کی سالانہ معاشرتی و ماحولیاتی لاگت 300 ارب سے 600 ارب امریکی ڈالر کے درمیان ہے جو ایک ایسا نقصان ہے جسے دنیا کا کوئی بھی ملک نظرانداز نہیں کر سکتا۔
 پلاسٹک کی ایک قسم ’’مائیکرو پلاسٹک‘‘ جو کہ پانچ ملی میٹر یا اس سے چھوٹے پلاسٹک کے ذرات پر مشتمل ہوتے ہیں، اب ہماری خوراک، پانی اور ہوا میں شامل ہو چکے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہر انسان سالانہ 50,000 سے زائد پلاسٹک ذرات جسم میں جذب کر رہا ہے اور اگر سانس کے ذریعے شامل ہونے والے ذرات کو بھی شمار کیا جائے تو یہ تعداد کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ماحولیات کے عالمی دن کے حولے سے اپنے پیغام میں دل دہلا دینے والے حقائق بتاتے ہوئے کہاکہ پلاسٹک آلودگی اب صرف سڑکوں پر بکھرے شاپنگ بیگز کا نام نہیں رہا یہ ہمارے دریاؤں کو بند کر چکی ہے، سمندروں کو زہر آلود کر چکی ہے، جانوروں کے پیٹ چاک کر چکی ہے اور اب تو انسانی دماغ اور ماں کے دودھ تک میں اس کے ذرات دریافت ہو چکے ہیں۔ پلاسٹک اب صرف ایک کوڑا نہیں بلکہ ایک عالمی زہر بن چکا ہے۔ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ اگر موثر اقدامات نہ کئے گئے تو 2040 تک پلاسٹک کی مقدار آبی ماحولیاتی نظام میں تین گنا بڑھ جائے گی اور لاکھوں مزید اقسام اور انسانوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف منصب سنبھالنے سے لے کر اب تک ماحولیات کے تحفظ کے لئے اقدامات کو جاری رکھے ہوئی ہیں۔انھوں نے پنجاب بھر میں پلاسٹک اور کوڑا کرکٹ کے ڈھیرختم کروائے،گلی محلوں میں صفائی کا انتظام بہترین بنایا،گرین پنجاب مہم کے تحت لاکھوں پودے لگائے گئے،گرین لاک ڈاون کے تحت سموگ اور فضائی آلودگی کو کم کیا گیا،بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا گیا،دھواں چھوڑنے والی گاڑیوںکے خلاف کریک ڈاون اورجدید ٹیکنالوجی کے ذریعے گاڑیوں کی مفت ایمیشنز ٹیسٹنگ سروسزکی سہولت دی گئی،ماحول کے تحفظ کے لئے یوتھ فورس کا قیام،مسٹ سپرنکلنگ سسٹم کی تنصیب،ویسٹ واٹر کی ٹیسٹنگ،گرین کریڈٹ کارڈ پروگرام کا آغاز،پنجاب بھر میں پلاسٹک کی اشیاء بنانے، تقسیم اور ری سائیکل کرنے والوں کے لئے لازمی رجسٹریشن کانظام اور ماحولیاتی تحفظ کے لئے واٹس ایپ سروسز نمبر 0322-1377164 متعارف کرائی گئی جس پر ویڈیو یا تصویر بناکر ماحولیاتی آلودگی کی نشاندہی کی جاسکتی ہے اس کے علاوہ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ کے لئے آن لائن ٹریننگ ،سیمینار زاور آگاہی مہم بھی چلائی جارہی ہیں ۔پنجاب کو پلاسٹک فری بنانے کے لئے صوبائی محکمہ انوائرمنٹ پروٹیکشن اینڈکلائمنٹ چینچ ڈیپارٹمنٹ کے زیراہتمام گذشتہ روز مختلف مقامات پر دیوار عہد بنائی گئی جس پر شہری اپنے ہاتھوں کے نشان لگاکر یہ عہد کررہے ہیں کہ پلاسٹک کا استعمال ترک کردیں گے۔پنجاب حکومت کی ماحولیات کے تحفظ کے لئے اقدامات قابل تحسین ہیں لیکن ماحولیات کا تحفظ صرف کسی ادارے یا حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہمیں آج سے ہی اپنی عادات میں تبدیلی لا کر آنے والی نسلوں کو ایک صاف، صحت مند اور خوبصورت دنیا کا تحفہ دینا ہوگا۔