ندیم ملک
پاکستانی عوام اتنے معصوم ہیں کہ ہر بات پر آنکھیں بند کرکے یقین کرلیتے ہیں 2016 میں موبائل فون پر فراڈ بہت زوروں پر تھے بہت کم لوگوں کے پاس انڈرئیڈ موبائل فونز تھے نوسرباز پی ٹی سی ایل سے فون کرکے متعلقہ شخص کا بائیو ڈیٹا بتا کر انھیں اکساتے اور لاکھوں روپے کا جھانسہ دے کر انھیں اپنے جال میں پھنساتے نوسربازوں کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ ان کا ان پڑھ لوگوں سے رابطہ ممکن ہو وہ پہلے متعلقہ شخص کا مکمل بائیو ڈیٹا دیتے ہیں پھر انھیں مختلف باتوں سے بہلا پھسلا کر مطمئن کرتے کہ آپ کا اتنا پیسہ حکومت پاکستان کی جانب سے الارٹ ہوا ہے جو کہ کچھ پیسوں کا ایزی کارڈ کروانے کے بعد دیا جائے گا جو کوئی ان کے جال میں پھنس جائے اور ان کی معصومانہ باتوں میں آجاتا تھا تو پہلے وہ دو چار ہزار منگواتے تھے اور متعلقہ شخص کو وقت دیتے تھے کہ ہم دوبارہ کچھ گھنٹوں بعد رابطہ کریں گے نوسرباوں کو جب یقین محکم ہوجاتا کہ بندہ ہمارے جال میں مکمل طور پر پھنس گیا ہے تو وہ مزید پیسوں کی ڈیمانڈ کرتے اور اسے مزید پیسے بھیجوانے کی تائید کرتے میں اس بات کا بچشمِ خود گواہ ہوں کہ میرے آس پاس کے لوگوں کیساتھ یہ فراڈ ہوچکا ہے بعد میں اس سے منسلک نوسربازوں کے سرغنہ گینگ پکڑے بھی گئے جنھوں نے کڑوروں روپے عوام سے فراڈ کرکے اکھٹا کیا تھا خیر ہم نئے فراڈ کی بات کرتے ہیں یہ ہے نئی ایپلیکیشن NFT یہ اصل میں ہے کیا؟ یہ ایپلیکیشن امریکہ میں کسی شخص نے بنائی ہے جس کوئی بائیو ڈیٹا انٹرنیٹ پر موجود نہیں ہے اس لیے کسی ادارے کی رسائی اس تک ممکن نہیں ہوسکی اس اپیلیکشن پر جو ایڈریس دیا گیا ہے وہ امریکہ کے کسی اسٹور کا ہے جو برسوں سے بند ہے اس پر اب تک 42 ارب 56 کڑور روپے سے زیادہ کا فراڈ ہوچکا ہے کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ شروع شروع میں ہمیں پیسے انویسٹمنٹ کرنے پر ڈبل پیسے بھی موصول ہوئے تھے جب کہ بعد میں ایک دم اس ایپ سے پیسے آنا بند ہوگئے ایک شخص نے اپنا گھر زمین موٹر سائیکل فروخت کرکے لاکھوں روپے اس میں انویسٹمنٹ کرنے کے علاوہ مختلف دوستوں سے قرضہ بھی لیا لیکن آج وہ پائی پائی کا مقروض دوستوں عزیزوں اور رشتوں داروں سے چھپ کر کہیں بیٹھا ہے پاکستانی عوام اتنے معصوم ہیں کہ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ یہ ایپلیکیشن کہیں رجسٹرڈ بھی ہے یا نہیں تصدیق تک نہیں کرتے اور آنکھیں بند کرکے اس پر اندھا یقین کرلیتے ہیں یہ تو وہی مثال ہوئی کہ ایک پاگل شخص سڑک پر کھڑا آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا اس کی طرف دیکھ کر آتے جاتے لوگ بھی آسمان کی طرف دیکھنے لگ گئے دیکھتے ہی دیکھتے وہاں عوام کا جم غفیر لگ گیا NFT میں سب سے زیادہ پیسہ وزیرستان اور شمالی علاقوں کے عوام نے انویسٹمنٹ کیا کیوں کہ ان کے پاس ذریعہ معاش بہت کم ہے وہ لوگ جب بھی اس طرح کی کوئی سکیم یا اپیلیکشن منظر عام پر آتی ہے تو فوراً اس کے پیچھے دھرا دھر لگ جاتے ہیں اس کے بعد جنوبی پنجاب یہاں کے عوام نے اپنے گھر کا سامان تک فروخت کر دیا اور راتوں رات امیر ہونے کے خواب دوپہر میں دیکھنا شروع کر دیے آخر ان کا خواب بھی ادھورا رہا اور وہ گھر سے بے گھر بھی ہوگئے اس فیک ایپ نے بہت سوں کے ساتھ فراڈ کیا اب لوگ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ کب ہم گدا سے شاہ بنیں گے لیکن افسوس یہ خواب خواب ہی رہا NFT امریکہ کے کسی چھوٹے سے علاقے سے وابستہ ہے گوگل ایپ پر عوام دیکھ سکتے ہیں اس کی لوکیشن جہاں سے جاری ہو رہی ہے وہ بھی کئی عرصے سے بند اسٹور کی ہے اس پر جو لوگ کام کر رہے ہیں ان کی بھی کوئی شناخت نہیں وہ بھی نوسرباز ہیں خدارا اپنا اور اپنے بچوں کے ساتھ اپنے گھر کاروبار کا خیال رکھیں اور ایسی جعلساز اپلیکیشن سے بچیں تاکہ مستقبل میں آپ اور آپ کے بچوں کا مستقبل روشن رہے
بقول علامہ اقبال
ملت کے ساتھ رابطہ ء استور رکھ
پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ