نازیہ آصف
مثل مشہور ہے کہ" ہر فرعون کا موسی ضرور ہوتا ہے"۔ سچ مانیے تو دریاؤں نے جو پہاڑی و میدانی علاقوں میں تباہی مچائی ، مال و اسباب ، مویشیوں کے ساتھ انگنت جانیں بھی دریابرد ہوئیں ، ان سب کے ضیاع کا بہت زیادہ دکھ ہوا ، ہنستے بستے گھر اجڑ گئے ، زندگی بھر کی کمائی سے بنے گھر، دھرتی سے لمحوں میں یوں صفاچٹ ہوئے گویا کبھی وجود ہی نہ رکھتے ہوں ، ماؤں کے تنکا تنکا کر کے بیٹیوں کے لیے سینتے گئے جہیز آن کی آن میں دریا کے منہ زور ریلوں نے نگل لیے۔
ظالم دریا سب کچھ بہا کر لے گئے اور اپنے پیچھے دکھ بھری یادیں اور داستانیں چھوڑ گئے ، جو کء صدیوں تک دہرائی جاتی رہیں گی۔
قارئین ! جو کچھ مندرجہ بالا سطور میں لکھا گیا، وہ بالکل سچ ہے، بحثیت انسان ہم سب دکھی ہیں،افسردہ ہیں، اور کسی حد تک بے بس بھی ہیں۔
مگر یہ بھی ایک کھرا سچ ہے کہ اس ساری ابتلا میں ہمارا اپنا کتنا ہاتھ ہے۔۔۔۔؟
چلیے اس نکتے سے ابتدا کرتے ہیں کہ
ہم نے فطرت کے دشمنوں کو ٹھیکوں کے نام پہ تیز اور جدید اقسام کے کلہاڑے ہاتھوں میں تھما کر تنہا معصوم درخت ان کے حوالے کر دیے۔( یاد رکھیے جنگل کے درختوں کا زیر زمیں باقاعدہ ایک میکانزم وجود رکھتا ہے۔ وہ ہر کمزور درخت کو اپنی جڑوں کے زریعے خوراک اور سہارا دینے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں)۔
جنھوں نے بنا تمیز پرانے نئے سب درختوں کا یوں صفایا کیا جیسے کبھی ان کا وجود ہی نہ تھا۔
انھیں درختوں کے پاس پرہیبت، مگر بے بس پہاڑ خاموشی اور لاچارگی سے یہ ظلم ہوتا دیکھتے رہے۔
صدیوں پرانے دوست جن کی گردنوں پہ آرے چلتے رہے ، اور وہ ایک ایک کر کے گرتے رہے ، یہ سب دیکھ کر پہاڑوں کے دل چھلنی ہوتے رہے ، ان کا کرب ان کے دل چیر گیا اور وہ گلیشیروں کا بوجھ جو نہ جانے کتنی صدیوں سے بخوشی اٹھائے کھڑے تھے ، یکدم گرا دیا ، گلیشیر چنگاڑے، پہاڑوں کا کرب بیان ہوا، زخمی جگر کے زخم نہ سل پائے، کیونکہ
' کوء اہل دل نہیں تھا افسوس میرے شہر میں'
افسوس کہ اس پہ بھی حضرت انسان نے بس نہیں کی بلکہ ڈائنامائیٹ لگا کر پہاڑوں کے پرخچے اڑائے اور ان کے اندر سے ماربل کی سلیبیں نکال کر ان کے بخیے ادھیڑ دیے۔ سوات بھر بطور خاص بونیر کے علاقوں میں سلیبیں کاٹنے والی فیکٹریاں اصل میں بارود کی وہ فیکٹریاں ہیں جنھوں نے خود ہی گھر کو آگ لگانے میں مدد فراہم کی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک آرٹیفیشل طریقے سے تیار کیا گیا میٹریل سستا جبکہ قدرتی
ذرائع سے حاصل کیا گیا مہنگا ملتا ہے جبکہ ہمارے ہاں ماربل سستا اور باقی میٹریل مہنگا ہے۔ یہی چیزیں ہماری ترجیحات طے کرتی ہیں۔
قارئین دریا تہذیبوں کے لیے ماں کی گود ہوتے ہیں، انھیں زندگی بخشتے ہیں اور تہذیبیں نوع انسانیت کی پرورش کرتی ہیں۔
احباب غور کیجیے اہرام مصر کی حامل پرشکوہ مصری تہذیب دریائے نیل کے کنارے، سمیری تہذیب دریائے گنگا و جمنا کے کنارے، قدیم چینی تہذیب دریائے زرد (ہونگ ہو) کے کنارے' اور ہماری اپنی سندھو تہذیب ، سب دریاؤں کی دین ہیں یعنی یہ دریا نہ ہوتے تو تہذیبیں بھی نہ ہوتیں، مگر ہماری کج روی دیکھیے ہم نے دریاؤں کو نالہ کہہ کر فطرت کی توہین کی،ان کے راستے تنگ کر کے ان کا سانس لینا محال کیا۔
ہم نے درخت کاٹے، پہاڑوں میں دھماکے کر کر کے ان کی بنیادیں ہلا دیں۔ جس سے گلیشئر ہی نہیں پگھلے بلکہ فطرت کی اس تباہی و بربادی نے اللہ پاک کے غضب کو آواز دے دی اور انسان نے آن کی آن میں قیامت کی نشانیاں دیکھ لیں ،زلزلے آئے، بادل پھٹے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوئے اور طوفان نوح کی طرح آسمان و زمین سے اگلتے پانی نے فطرت کا انتقام لے لیا۔
یہ سیلاب نہیں ہیں یہ فطرت کا انتقام ہے ، سرکش دریاؤں کی طغیانیوں نے اپنے پیاروں کا بدلہ لے لیا یے۔
بیشک اس میں سمجھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
اگر ہم نے ابھی بھی دریاؤں کے راستے نہ چھوڑے، درختوں کی کٹائی ، پہاڑوں کی کرشنگ کے متبادل ذرائع تلاش نہ کیے تو قدرت ہم پہ رحم نہیں کرے گی اور ہمارا انجام قوم نوح سے مختلف نہیں ہونے والا۔
اللہ پاک ہم سب پہ رحم فرمائے آمین
قلمکار۔۔۔۔۔