محمد ندیم بھٹی
پاکستان کے سب سے بڑے محصولاتی ادارے یعنی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں گزشتہ چند سالوں میں بے تحاشا مسائل نے ادارے کی ساکھ اور کارکردگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ بدعنوانیوں، غیر ذمہ داری، اور ناکافی نگرانی نے نہ صرف ملکی خزانے کو نقصان پہنچایا بلکہ ٹیکس دہندگان کے اعتماد کو بھی شدید دھچکا پہنچایا۔ ایسے میں یہ خوش آئند خبر ھے کہ چیف کمشنر
لاھور ایف بی آر سعدیہ صدف گیلانی اور ان جیسے کئی دیگر اعلیٰ افسروں کی ان تھک محنت سے پاکستان کیآئی اہم ایف کے بھاری بوجھ سے پاکستان کے ممکنہ چھٹکارے کے بعد واضح امکانات روشن ھوتے نظر اتے ہیں۔ادارے میں اصلاحات کا ایک نیا دور شروع ھوا ھے۔ چیف کمشنر ایک ایماندار اور سنجیدہ آفیسر ہیں، اور اب ان جیسے محنتی افسروں کی مشترکہ کوششوں سے ادارے میں شفافیت اور جوابدھی کا نیا ماحول پیدا ھوا ھے۔ اور اربوں روپے کے ٹیکس وصولی کر کے ملکی خزانے کو مضبوط کیا گیا ھے یہی مشترکہ اقدامات مستقبل میں ایسے فیصلوں کی بنیاد بھی رکھ سکتے ہیں جو ملکی معیشت کے لیے نہایت مثبت ھوں، حتیٰ کہ آئی ایم ایف سے متوقع پابندیوں اور دباؤ سے جان چھوٹ جانے کا بھی امکان بڑھ سکتا ھے۔ یہ اعتماد کی فضا اور ادارے کی موثر کارکردگی اس بات کی علامت ھے کہ اب ایف بی آر ماضی کی غیر ذمہ داریوں سے باہر نکل کر ایک مضبوط ادارے کی شکل اختیار کر رہا ھے۔
ایف بی آر کے پیچیدہ مسائل اور ذاتی مفادات نے اصلاحات کو محدود کر دیا تھا، جس کی نچلے درجے پر اب بھی شکایات تو ہیں ،لیکن نئے انتظامی اقدامات نے ادارے میں شفافیت اور جوابدہی کو اولین ترجیح دی ھ?ے۔ ادارے میں ہر شعبے کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا رہا ھے اور ہر افسر کی ذمہ داریوں کا واضح تعین کیا گیا ھے۔ یہ عمل نہ صرف ادارے میں نظم و ضبط قائم کرے گا بلکہ بدعنوان عناصر کے لیے بھی خبردار پیغام ھے کہ اب کوئی غیر قانونی عمل چھپ نہیں سکے گا۔
سب سے اہم تبدیلی یہ ھیکہ ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کرانا شروع کیا ھے۔ آن لائن سسٹمز اور خودکار چیکنگ میکانزم نے ٹیکس جمع کرنے کے عمل کو شفاف اور آسان بنایا ھے۔ اب بزنس کمیونٹی اور عام شہری بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے ٹیکس معاملات آن لائن مکمل کر سکتے ھیں، اور کسی بھی قسم کی غیر ضروری دفتری کارروائی سے بچ سکتے ھیں۔ اس کے ساتھ ھی شکایات کے ازالے کے لیے بھی ایک مضبوط میکانزم قائم کیا گیا ھے، جس سے عوامی اعتماد میں نمایاں اضافہ ھوگا۔
ایف بی آر میں اصلاحات کا ایک اور اہم پہلو کرپشن کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات ھیں۔ سابقہ انتظامیہ میں موجود غیر ذمہ دار افسران اور کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی کی جا رہی ھے۔ ان عناصر کی برطرفی اور قانونی کارروائی سے ادارے میں ایک خوف اور احتساب کا ماحول پیدا ھوا ھے، جو آئندہ کے لیے ایک مثبت پیغام ھے۔ اس کے ساتھ ہی افسران کی تربیت اور صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رھے ھیں تاکہ وہ ملک کے مفاد میں اپنی ذمہ داری بخوبی ادا کر سکیں۔
چاہے وہ کسٹمز کے شعبے کی بات ہو یا انکم ٹیکس کے معاملات کی، ہر شعبے میں اصلاحات کو نافذ کیا جا رہا ھے۔ کسٹمز کے شعبے میں ٹرانسپیرنسی اور چیکنگ کے نظام کو مضبوط کیا گیا ھے تاکہ درآمدات اور برآمدات میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا غیر قانونی عمل کی گنجائش نہ رھے۔ انکم ٹیکس کے شعبے میں بھی ایک نیا نظام متعارف کرایا گیا ھے، جس سے ٹیکس ریٹرنز کی جانچ پڑتال اور ٹیکس کلیکشن کے عمل میں واضح بہتری آئے گی۔
نئے انتظامی اقدامات نے ادارے میں ایک نئے جوش اور جذبے کی لہر پیدا کی ھے۔ افسران فیلڈ ورک میں اب زیادہ ذمہ دار اور جوابدہ نظر آ رھے ھیں۔ جس کی مثال ڈپٹی کمشنر احمد اقبال شیخ اور ان جیسے کئی افسران ہیں ان افسروں کو جب بھی رابطے کی کوشش کی گئی تو وہ فیلڈ ورک میں مصروف پائے گئے، اور دفتر میں ان کا دروازہ لاک ھی رھا یہ ایک بہترین کام کرنے کی مثال ھیاس کے ساتھ ساتھ عوامی شکایات کا فوری ازالہ، ٹیکس دہندگان کے لیے آسانی پیدا کرنا، اور بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی بھی ادارے کی ساکھ میں نمایاں بہتری پیدا کر رھی ھے۔ یہ اقدامات نہ صرف موجودہ حکومت کی کارکردگی کو بہتر کریں گے بلکہ مستقبل میں ایف بی آر کے لیے مضبوط بنیاد بھی فراہم کریں گے۔
اصلاحات صرف اندرونی عملہ تک محدود نہیں ھیں بلکہ بیرونی شفافیت پر بھی زور دیا جا رہا ھے۔ ٹیکس دہندگان، بزنس کمیونٹی، اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ھیں۔ اب ٹیکس دہندگان کے مسائل کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کی جا رھی ھے، اور اس کے لیے ایک مربوط اور موثر رابطہ نظام قائم کیا گیا ھے۔ جس سے عوام کے درمیان اعتماد کی فضا مضبوط ھوگی، جو کہ کسی بھی معاشرتی ادارے کی کامیابی کے لیے انتہائی ضروری ھے۔
ایف بی آر میں اصلاحات کے نتیجے میں ملک میں ٹیکس کلچر کو فروغ ملے گا۔ عوامی شعور میں اضافہ اور ٹیکس کی ادائیگی کے عمل میں آسانی سے لوگ ٹیکس دینے کے عمل میں زیادہ دلچسپی لیں گے۔ یہ اقدام ملک کی معیشت کے لیے نہایت اہم ھے کیونکہ ٹیکس دہندگان کے اعتماد کے بغیر کوئی بھی مالیاتی نظام مضبوط نہیں ھو سکتا۔ اصلاحات کی یہ لہر ملک کے ہر شہری کے لیے خوش آئند ھے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو برسوں سے غیر شفاف نظام کے باعث مشکلات کا شکار تھے۔
ماضی میں ایف بی آر میں عدم شفافیت اور غیر ذمہ دارانہ رویے نے ملکی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا جس کی مثال یہاں دینا مناسب نہیں، اس کے علاوہ کئی اہم ٹیکس قوانین اور ضابطے محض کاغذوں تک محدود رہ گئے، اور جس کے نتیجے میں عملی طور پر اکثر افسر اپنی ذمے داری پوری سنجیدگی سے ادا نہیں کرتا تھا۔ اس کے نتیجے میں ٹیکس دہندگان میں بے اعتمادی پیدا ھوئی، اور کاروباری طبقے نے ادارے کو غیر فعال سمجھنا شروع کر دیا۔ یہ وہ خلا تھا جسے موجودہ اصلاحات نے بھرنے کی کوشش کی ھے۔
یہ اصلاحات نہ صرف تکنیکی اور انتظامی سطح پر ہیں بلکہ اخلاقی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو بھی بڑھاوا دیتی ہیں۔ ہر افسر کو یہ باور کرایا جا رہا ھے کہ ٹیکس دہندگان کے ساتھ انصاف اور شفافیت ادارے کی سب سے بڑی ترجیح ھے۔ افسران کو اب ذاتی پسند ناپسند، سیاسی دباو? یا غیر قانونی فائدے کے لیے اقدامات نہیں کرنے دیے جائیں گے۔ اس کے بجائے، ان کی کارکردگی کو شفاف معیاروں کے تحت پرکھا جائے گا۔
ایف بی آر میں اصلاحات کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے بھی آسانی پیدا ھوگی۔ جب ٹیکس نظام شفاف اور منظم ھو گا، تو غیر ملکی سرمایہ کاری کا رجحان بڑھے گا، اور ملکی معیشت میں تیزی سے نمو آئے گی۔ یہ نہ صرف موجودہ حکومت کے لیے بلکہ پورے ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی مثبت پہلو ھے۔
عوامی اعتماد اور بین الاقوامی سطح پر ساکھ میں اضافہ ادارے کو مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔ اگر یہ اصلاحات مستقل اور مکمل طور پر نافذ رہیں، تو ایف بی آر نہ صرف ملکی خزانے کی حفاظت کریگا بلکہ ملک کے تمام مالیاتی نظام کو بھی منظم اور مؤثر بنائے گا۔
میرے مطابق آخر میں یہ کہنا بجا ھوگا کہ ایف بی آر میں موجودہ اصلاحات ایک نیا دور شروع کرنے کے مترادف ھیں۔ چاھے وہ شفافیت کا نفاذ ھو، کرپشن کا خاتمہ، یا ٹیکس دہندگان کے لیے آسانیاں پیدا کرنا، ہر قدم ملک کی معیشت اور عوام کے اعتماد کے لیے اہم ھے۔ آئی اہم ایف سے چھٹکارے یا مالیاتی بوجھ کے کم ھونے پر پاکستان معاشی طور پر مستحکم ھوتا نظر آرھا ھے، اب بہتری کا وقت ھے کہ ہر افسر اپنی ذمہ داری بخوبی ادا کرے اور ایف بی آر کو اس کے اصل مقصد یعنی ملکی خزانے کی حفاظت اور ٹیکس دہندگان کے اعتماد کو قائم رکھنے کے لیے فعال طور پر کام کرے۔
یہ اصلاحات اگر مکمل اور مستقل بنیادوں پر نافذ ھوئیں، تو ایف بی آر نہ صرف موجودہ حکومت کے لیے بلکہ آئندہ حکومتوں کے لیے بھی ایک مضبوط اور شفاف ادارہ ثابت ھوگا۔ اس ادارے کی کامیابی براہ راست ملک کی معیشت، عوام کے اعتماد، اور ٹیکس کلچر کی مضبوطی سے جڑی ھے۔ یہی وجہ ھے کہ ایف بی آر میں اصلاحات صرف ادارے کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ھیں، اور سعدیہ صدف گیلانی ، جبران مسرور ھاشمی، ارم شبیر اور ان جیسے جیسے ایماندار افسروں کی حقیقی کاوشیں مستقبل میں آئی ایم ایف جیسے بین الاقوامی ادارے کے دباؤ سے بھی جان چھڑانے میں معاون ثابت ھو سکتی ہیں۔
لیکن شرط یہ ھے اگر ادارے میں یہ اصلاحات مستقل بنیادوں پر جاری رہیں، تو ملکی خزانے کی مضبوطی، ٹیکس نظام کی شفافیت اور کاروباری کمیونٹی کی سہولت میں اضافہ یقینی طور پر ھوگا۔ اس کے ساتھ ھی عوام کے اعتماد میں بھی اضافہ ھوگا اور یہ ایف بی آر کے تمام محنتی افسروں کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ھوگی جو نا صرف پاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑے ھونے میں مدد دے گی بلکہ برسراقتدار حکومت کے وزیر اعظم جناب شہباز شریف کے ایمان دار افسران کے انتخاب کو اپنا اھم مقصد یعنی عوام کی خصوصی خدمت کے نام کو حقیقی رنگ دے گی۔
۔