اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں پی ٹی آئی رہنما زرتاج گل کی آزادی مارچ کیسز میں بریت کی درخواست پر سماعت مکمل ہو گئی ہے، جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
کیس کی تفصیلات:
نجی ٹی وی رپورٹس کے مطابق، پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف درج آزادی مارچ کے مقدمات میں زرتاج گل کی جانب سے بریت کی درخواست پر جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن چشتی نے سماعت کی۔زرتاج گل کے وکیل سردار مصروف خان نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ:ایف آئی آر میں ان کی موکلہ پر "ایما" (اکسانے) کا الزام لگایا گیا ہے۔اسی نوعیت کے کیس میں 25 افراد میں سے 11 افراد کو پہلے ہی بری کیا جا چکا ہے۔واقعہ عوامی جگہ پر پیش آیا، اور ایف آئی آر پولیس کی جانب سے درج کی گئی۔چالان کے ساتھ کوئی ٹھوس شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔
عدالت کے ریمارکس:
سماعت کے دوران جج نے وکیل سے استفسار کیا کہ "آپ نے رول آف کنسٹنسی" (یعنی مستقل مزاجی کے اصول) کا حوالہ دیا ہے، اس کی ججمنٹ کہاں ہے؟وکیل نے جواب دیا کہ وہ اس حوالے سے فیصلے عدالت کو فراہم کریں گے۔
موجودہ صورتحال:
دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، جو آئندہ سماعت پر سنایا جائے گا۔