پنجاب حکومت کی اپیل خارج‘ملکیتی حقوق یکطرفہ کارروائی سے ختم نہیں کئے جا سکتے:سپریم کورٹ

 زمین واپس لینے یا ملکیتی حقوق متاثر کرنے سے قبل متعلقہ فریق کو نوٹس اور صفائی پیش کرنے کا معقول موقع دینا ضروری ہے:تین رکنی بینچ
اسلام آباد (آن لائن)سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے پنجاب حکومت کی جانب سے دائر سول اپیل خارج کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے قرار دیاہے کہ کسی شخص کے ملکیتی حقوق کو یکطرفہ کارروائی سے ختم نہیں کیا جا سکتا، زمین واپس لینے یا ملکیتی حقوق متاثر کرنے سے قبل متعلقہ فریق کو نوٹس اور صفائی پیش کرنے کا معقول موقع دینا ضروری ہے، سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سماعت کا موقع فراہم کرنا محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ قانون کا لازمی تقاضا ہے، اس کے بغیر کی گئی کارروائی غیر قانونی تصور ہوگی۔عدالت نے قرار دیا کہ پنجاب کالونائزیشن آف گورنمنٹ لینڈز ایکٹ کے تحت بورڈ آف ریونیو کو فراڈ یا غلط بیانی سے حاصل کیے گئے حقوق کے خلاف کارروائی کا اختیار حاصل ہے تاہم اس اختیار کے استعمال سے قبل متعلقہ شخص کو معقول موقع سماعت دینا ضروری ہے