ایس او پی قانون نہیں ہوتا خود ہی قانون تبدیل کر کے بنیادی حقوق ختم نہیں کئے جا سکتے اسلام آباد ہائیکورٹ

 ایف آئی اے کی جانب سے آف لوڈ کرنے کے ازخود ایس او پیز بنانے پر سخت برہمی کا اظہار ، ایسے پھر ہر ادارہ قانون کی بجائے ایس او پی پر کام شروع کر دے گا: جسٹس انعام
اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے سے شہریوں کو آف لوڈ کرنے اور روکنے سے متعلق قانون پر معاونت طلب کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت پر ایس او پیز نہیں قانون سے متعلق بتائیں اور تیاری کے ساتھ آئیں ۔یہ ہدایت جمعرات کے روزعدالت نے ایف آئی اے کی جانب سے آف لوڈ کرنے کے ازخود ایس او پیز بنانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس انعام امین منہاس نے شہری ساجد کی درخواست پر سماعت کی، عدالتی طلبی پر ایف آئی اے کی ایڈیشنل ڈائریکٹر زنیرہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر افضل نیازی عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران ایف آئی اے کی جانب سے 1975 کا ایک لیٹر عدالت میں پیش کیا گیا جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس لیٹر میں ایسا کچھ نہیں ہے کہ آپ آف لوڈ کر سکیں۔ ایف آئی اے حکام نے موقف اختیار کیا کہ ایس او پیز کے تحت ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں جس پر جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ ایس او پی قانون نہیں ہوتا، ہمیں قانون پر عملدرآمد کرنا ہوتا ہے، ایس او پی قانون نہیں ہوتا، خود ہی قانون تبدیل کر کے بنیادی حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے پھر ہر ادارہ قانون کی بجائے ایس او پی پر کام شروع کر دے گا، آپ نے یونیفارم پہنے ہوئے پاکستان کی ایک ایجنسی ہیں لیکن بظاہر قانون کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے افضل نیازی نے بتایا کہ 45 ہزار 850 افراد ڈی پورٹ ہو کر آئے ہیں، پاکستان سے وزٹ ویزا پر 39 ہزار 95 افراد گئے، واپس نہیں آئے جبکہ 11 سو سے زائد افراد بیرون ملک گداگری میں شامل ہیں