اپیل کنندہ کی وفات کے بعد قانونی ورثا ء موجود ہوں تو اپیل خارج نہیں ہوگی سپریم کورٹ

 قانونی ورثا مقدمے کو آگے بڑھا سکتے ہیں، زیرِ سماعت مقدمے سے حاصل مالی یا دیگر فوائد قانونی ورثا کو منتقل ہو سکتے ہیں:جسٹس عائشہ اے ملک
لاہور(آئی این پی )سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ اپیل کنندہ کی وفات کے باوجود اگر اس کے قانونی ورثا موجود ہوں تو اپیل محض اس بنیاد پر خارج نہیں کی جا سکتی، کیونکہ زیرِ سماعت مقدمے سے حاصل ہونے والے مالی یا دیگر فوائد قانونی ورثا کو منتقل ہو سکتے ہیں۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جسٹس عائشہ اے ملک اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ایف بی آر کے سابق ملازم عبد الحق کی اپیل پر فیصلہ سنا دیا، بنچ نے اپیل پر سماعت کرتے ہوئے فیڈرل سروس ٹربیونل کو ہدایت کی کہ وہ محکمانہ ترقی سے متعلق اپیل کا فیصلہ تین ماہ میں کرے۔عدالت نے قرار دیا کہ اگر اپیل کنندہ دورانِ مقدمہ فوت ہو جائے تو اس کے قانونی ورثا مقدمے کو آگے بڑھا سکتے ہیں، خصوصا جب زیرِ تنازع معاملے سے حاصل ہونے والے فوائد قانونی ورثا کو مل سکتے ہوں