خلیج کانیاعہد

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
شایداصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان خلیج کے سلامتی نظام میں داخل ہوچکاہے یانہیں۔زیادہ معنی خیزسوال یہ ہے کہ آیاپاکستان رفتہ رفتہ ان متعدددفاعی رشتوں کے درمیان ایک مرکزی کڑی بن رہاہے جوخلیج کے نئے سلامتی ڈھانچے کوتشکیل دے رہے ہیں۔دستاویزبھی اس امکان کوسوال کی صورت میں اٹھاتی ہے،مگرساتھ یہ احتیاط بھی برتتی ہے کہ اس تبدیلی کومکمل شدہ حقیقت قراردیناابھی قبل ازوقت ہوگا۔ اسی طرح پاک کویت تعاون کوامریکاکے ساتھ خلیجی ریاستوں کے موجودہ سلامتی روابط کابراہِ راست متبادل بھی قرارنہیں دیا گیا۔
پاکستان اورترکی کے ساتھ خلیجی تعاون کوامریکاسے فاصلہ پیداکرنے کی سادہ تعبیردیناشایدمعاملے کوضرورت سے زیادہ سہل کردیناہوگا۔دستاویزکے مطابق کویتی حکمتِ عملی کا رجحان موجودہ امریکی سلامتی انتظامات کوترک کرنے کی بجائے انہیں دیگرشراکت داریوں کے ذریعے مضبوط اورمتنوع بنانے کی طرف ہے۔حکمتِ سیاست کاتقاضابھی یہی ہے کہ ریاست اپنی کشتی صرف ایک لنگرسے نہ باندھے۔سمندرکامزاج کب بدل جائے،کسی بادبان کوپہلے سے خبرنہیں ہوتی۔پاکستان کی ایک امتیازی خصوصیت یہ بھی بتائی گئی ہے کہ خلیجی ریاستوں کیساتھ بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کے باوجود اسلام آبادنے ایران کے ساتھ اپنے روابط منقطع نہیں کیے۔یہ وہ باریک سفارتی پل ہے جس پرچلنے کی صلاحیت ہرریاست کو میسرنہیں ہوتی۔اگرپاکستان خلیجی شراکت داروں اورایران جیسے علاقائی فریق کیساتھ بیک وقت رابطے برقراررکھنے میں کامیاب رہتاہے تویہی صلاحیت بعض خلیجی ریاستوں کی نگاہ میں اس کی افادیت بڑھاسکتی ہے۔
جیسے جیسے یہ سوال گہراہوتاجارہاہے کہ آیاکوئی ایک عالمی طاقت پورے خطے کوجامع سلامتی فراہم کرسکتی ہے، ویسے ویسے دفاعی شراکت داریوں کامتنوع جال تشکیل پاتادکھائی دیتا ہے۔اسی پس منظرمیں پاک کویت معاہدے کوایک بڑے عمل کی چھوٹی مگرمعنی خیزعلامت سمجھاجاسکتاہے:ایک ایساعمل جس میں علاقائی طاقتیں ان میدانوں میں قدم بڑھارہی ہیں جہاں کبھی مغربی طاقتوں کاتقریبابلاشرکتِ غیرے اثرتھا۔تاہم تبدیلی اورانقطاع میں فرق قائم رکھناضروری ہے۔نئے دروازے کھل رہے ہیں،مگرپرانے دروازے ابھی بند نہیں ہوئے۔
بنگلہ دیش سے منسوب بیان میں مکہ معاہدے کی ممکنہ توسیع کودنیابھرکی مسلم برادری کی سلامتی سے مربوط کیاگیاہے۔یہ تصوراگرمستقبل میں عملی سیاسی حمایت حاصل کرتاہے تومکہ معاہدے کابیانیہ محض تین ریاستوں کے باہمی دفاع سے نکل کر وسیع تراجتماعی سلامتی کے تصورکی طرف جاسکتاہے،یہاں سیاست اورتہذیب ایک دوسرے کے قریب آتے دکھائی دیتے ہیں؛کیونکہ مسلم دنیامیں اجتماعی سلامتی کاخیال صرف عسکری اتحادکاسوال نہیں،تاریخی شعور،باہمی اعتماداورمشترکہ سیاسی ارادے کاامتحان بھی ہے۔مکہ معاہدہ ایک جامدیا مقفل بندوبست کی بجائے ارتقاپذیرسلامتی کے نظام کے طورپر پیش کرتا ہے،جس میں ایسے مزید ممالک کی شمولیت کاامکان موجودبتایاگیاہے جومشترکہ ذمہ داری اوراجتماعی سلامتی کے اصولوں سے ہم آہنگ ہوں۔اگریہ تصورعملی شکل اختیارکرتاہے تواس معاہدے کی اصل آزمائش اس کی تعدادمیں نہیں بلکہ اس کی داخلی ہم آہنگی،سیاسی اعتماداورمشترکہ ذمہ داری نبھانے کی صلاحیت میں ہوگی۔اتحادوں کی قوت صرف پرچموں کی کثرت سے نہیں،ارادوں کی یکجائی سے پیداہوتی ہے۔
بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت اس فریم ورک کومغربی ایشیاکی جغرافیائی حدودسے نکال کرجنوبی ایشیامیں داخل کرسکتی ہے۔ایسی پیش رفت بھارت کے شمال مشرقی جغرافیائی وتزویراتی حسابات اورخطے میں طاقت کے توازن پراثراندازہوسکتی ہے۔یہاں البتہ تجزیے اوریقینی حقیقت کے مابین حدقائم رکھناضروری ہے۔کسی بھی اتحادکی توسیع کے ممکنہ اثرات کا دارو
مدارمحض رکنیت پرنہیں بلکہ اس کے عملی دفاعی التزامات،جغرافیائی ترجیحات اورسیاسی ارادوں پربھی ہوگا۔خطے کے ممالک اس ممکنہ تبدیلی کو ایک اہم اسٹریٹیجک پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
موجودہ سیاسی تناظرمیں یہ واضح اشارے بھی موجود ہیں کہ خطے کے دیگرممالک مکہ معاہدے میں شمولیت کی خواہش رکھ سکتے ہیں۔اگرایساہوتاہے تویہ پیش رفت اس امرکاامتحان بنے گی کہ آیایہ انتظام واقعی ایک وسیع اجتماعی سلامتی کے ڈھانچے میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتاہے یااپنی موجودہ محدودساخت ہی میں زیادہ مؤثررہتاہے۔ہروسیع ہوتاہوا اتحاد قوت بھی حاصل کرتاہے اورپیچیدگی بھی؛نئے رکن نئے وسائل لاتے ہیں،مگرنئے مفادات اورنئی ذمہ داریاں بھی ساتھ لاتے ہیں۔آخری خبروں کے مطابق بنگلہ دیش اور ایران کی ممکنہ شمولیت کاامکان بیان کیاگیاہے اوریہ خیال پیش کیاگیاہے کہ مستقبل میں پاکستان کی خارجہ حکمتِ عملی مکہ معاہدے کے دائرے کومزیدممالک تک پھیلانے پرمرکوز ہو سکتی ہے۔ادھردوسری طرف بھارت،اسرائیل اورممکنہ طورپرمتحدہ عرب امارات کی مخالفت کے امکانات کاذکربھی تجزیاتی اندازمیں کیاگیاہے چونکہ یہ مستقبل سے متعلق سیاسی امکانات ہیں ، اس لیے انہیں وقوع پذیرشدہ حقائق کی بجائے تجزیاتی مفروضوں اورامکانات کی حیثیت سے دیکھنازیادہ قرینِ احتیاط ہے۔
خلیج کی ریت پرلکھی ہوئی سیاست کواکثرسمندری ہوانئے نقش دیتی رہی ہے۔جوخطہ کئی دہائیوں تک ایک نسبتامستحکم مغربی سلامتی چھتری کے سائے میں رہا،وہاں آج نئے سوالات جنم لے رہے ہیں:کیاآنے والے دورکی سلامتی ایک طاقت فراہم کرے گی یاکئی شراکت دار؟کیاعلاقائی ریاستیں محض عالمی قوتوں کی پناہ گیررہیں گی یاخوداپنے دفاعی نظام کی معماربنیں گی؟اورکیاپاکستان اس نئی تعمیرمیں محض ایک تربیتی شراکت دارہوگایارفتہ رفتہ ایک ایسے محورمیں ڈھل سکے گاجس کے گردمختلف دفاعی رشتے جڑتے چلے جائیں؟
پاک کویت معاہدہ اپنی موجودہ صورت میں اجتماعی جنگی ضمانت کاپیمان نہیں؛مگراسے معمول کی فوجی دستاویزکہہ کر نظراندازکرنابھی شایدتصویرکے صرف ایک گوشے کودیکھناہو گا۔ اسی طرح مکہ دفاعی معاہدے ایک زیادہ وسیع اجتماعی سلامتی کے تصورکی تصویرکھینچتاہے،مگراس کے مستقبل،توسیع اورعلاقائی نتائج کاانحصارابھی سیاسی ارادوں،عملی انتظامات اور بدلتے ہوئے عالمی حالات پرہے۔
پاکستان کیلئے اس تمام صورتِ حال میں اصل امتحان شایدطاقت کے اظہارسے زیادہ توازن کی حفاظت ہے:خلیج کااعتمادبھی باقی رہے،ایران کے ساتھ مکالمے کے دروازے بھی کھلے رہیں؛قدیم شراکت داروں سے تعلق بھی قائم رہے اورنئی علاقائی قوتوں کے ساتھ تعاون بھی بڑھے۔قوموں کی زندگی میں وقارصرف شمشیرکی دھارسے پیدانہیں ہوتا؛کبھی تدبر،اعتباراورتوازن وہ کام کرجاتے ہیں جوہزار لشکربھی نہیں کرسکتے۔اگرپاکستان آنے والے دورمیں اپنی عسکری صلاحیت کوسیاسی بصیرت،سفارتی اعتدال اورقابلِ اعتماد شراکت داری کے ساتھ جوڑنے میں کامیاب رہتاہے توخلیج میں اس کاابھرتاہواکردارایک وقتی سفارتی موسم کی بجائے ایک دیرپاتاریخی رجحان کی صورت اختیارکرسکتاہے اور آج تین دہائی قبل کی پشین گوئی سچ دکھائی دے رہی ہے کہ توفیقِ ایزدی سے وہ وقت  ٓئے گاجب دنیاکے فیصلے پاکستان کے باہمی مشوروں سے طے پائیں گے۔۔۔الحمداللہ۔