دوحہ میں حالیہ اسرائیلی فضائی حملے نے نہ صرف قطر کی سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے ہیں بلکہ خلیجی ممالک میں امریکا کے اتحادی اعتماد کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔
امریکی میڈیا میں شائع تجزیوں کے مطابق قطر، جو خطے میں سب سے بڑے امریکی فوجی اڈے کی میزبانی کرتا ہے اور اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے کر چکا ہے، یہ یقین رکھتا تھا کہ امریکا کے اتحادی ہونے کے ناطے محفوظ ہے، مگر اسرائیلی حملے نے اس وہم کو توڑ دیا۔قطری وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے اس حملے کو “ریاستی دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے یرغمالیوں کی رہائی اور امن کے امکانات کو ختم کر دیا۔ انہوں نے اسرائیل کے خلاف انصاف کے قیام کا مطالبہ کیا اور کہا کہ حملے نے امریکا اور اس کے خلیجی اتحادیوں کے درمیان اعتماد کو جھنجھوڑ دیا ہے۔شیخ محمد بن عبدالرحمان نے مزید کہا کہ سعودی عرب، قطر اور عرب امارات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے دوران تین کھرب ڈالر کے معاہدے کیے تھے، لیکن اسرائیلی حملے نے ان سیکیورٹی گارنٹیوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ قطر نے غزہ میں ثالثی کے دروازے بند نہیں کیے، تاہم مذاکراتی عمل اب تعطل کا شکار ہے۔خطے کے دیگر ممالک، جن میں مصر، عمان، امارات اور سعودی عرب شامل ہیں، بھی امریکا کے ردِ عمل پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس تاثر کو مزید تقویت دیتا ہے کہ اسرائیل امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔مختصراً، یہ واقعہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہا ہے بلکہ امریکا کی خلیجی اتحادیوں کے درمیان اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچا رہا ہے، جبکہ قطر اور دیگر ممالک اسرائیلی کارروائی کے عالمی قانونی اور سیکیورٹی اثرات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔