سیلاب اور بیرونی طلب کے اثرات، چاول کی قیمتیں ایک ماہ میں 40 روپے فی کلو بڑھ گئیں

سیلاب اور بیرونی طلب کے اثرات، چاول کی قیمتیں ایک ماہ میں 40 روپے فی کلو بڑھ گئیں

سیلاب سے نئی فصل کی تباہی اور امریکا سمیت دیگر ممالک کی بڑھتی ڈیمانڈ کے باعث مقامی مارکیٹ میں چاول کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔

ہول سیل ڈیلرز نے چاول کو ذخیرہ کرنا شروع کر دیا ہے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

مارکیٹ ریٹس کے مطابق:

کائنات چاول: 350 سے بڑھ کر 380 روپے فی کلو
سپر چاول: 290 سے بڑھ کر 320 روپے فی کلو
باسمتی چاول: 240 سے بڑھ کر 280 روپے فی کلو
سیلہ چاول (درجہ اول): 320 سے بڑھ کر 360 روپے فی کلو
ٹوٹا (ادواڑ) چاول: 200 سے بڑھ کر 250 روپے فی کلو
شہریوں نے شکوہ کیا ہے کہ پہلے چینی اور آٹا مہنگا ہوا اور اب چاول بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر جا رہا ہے۔کریانہ مرچنٹس نے کہا کہ نئی فصل متاثر ہونے کے باعث پرانا چاول مافیا نے ذخیرہ کر لیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ چاول کی ایکسپورٹ پر فوری نظر ثانی کی جائے تاکہ مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔