پنجاب سخت ترین آفت سے لڑ رہا ہے، سیاست کو سیلاب سے نہ جوڑا جائے: عظمیٰ بخاری

پنجاب سخت ترین آفت سے لڑ رہا ہے، سیاست کو سیلاب سے نہ جوڑا جائے: عظمیٰ بخاری

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب اس وقت اپنی تاریخ کی سخت ترین آفت کا سامنا کر رہا ہے اور ایسے وقت میں سیاست کے لیے سیلاب کو استعمال کرنا انتہائی نامناسب ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں نجی کشتیوں کو ریگولیٹ کیا جائے گا اور ان کشتیوں کو چلانے کی ادائیگی حکومت خود کرے گی تاکہ متاثرین سے پیسے نہ لیے جائیں۔انہوں نے بتایا کہ ہیڈ محمد والا اور شیر شاہ میں حالات مکمل طور پر قابو میں ہیں۔ ٹیکنیکل کمیٹی نے دونوں مقامات پر شگاف ڈالنے کی تجویز کو مسترد کیا ہے۔ "پنجاب حکومت ہٹ دھرمی نہیں کرتی، جہاں غلطی ہوتی ہے اسے درست کرتی ہے،" انہوں نے کہا۔وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ کل ایک پرائیویٹ کشتی چلانے کا واقعہ رپورٹ ہوا جہاں سیلاب زدگان کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے پیسے مانگے گئے۔ اس واقعے پر کارروائی کرتے ہوئے جلال پور پیر والا کے اسسٹنٹ کمشنر کو ناقص انتظامات پر عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملتان میں 139 کشتیاں ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں، سیلاب کے باعث 4572 دیہات متاثر ہوئے اور 42 لاکھ افراد براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں سے 22 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ متاثرین کے لیے 490 میڈیکل کیمپس اور 412 ویٹرنری کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں۔پریس کانفرنس کے اختتام پر عظمیٰ بخاری نے کہا کہ آج بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ ساتھ بیگم کلثوم نواز کی برسی بھی ہے۔ "اگر کلثوم نواز آج زندہ ہوتیں تو خوش ہوتیں کہ مشکل وقت میں عوام کی خدمت کی جا رہی ہے،" انہوں نے کہا۔