پاکستان ریلوے اور زوال کی داستان

شیخ انور
وقت کے اوراق جب پلٹے جاتے ہیں تو کچھ کہانیاں محض تاریخ نہیں رہتیں، وہ عبرت بن جاتی ہیں۔پاکستان ریلوے بھی ایک ایسی ہی داستان ہے—ایک ایسا ادارہ جو کبھی ترقی، دیانت اور نظم و ضبط کی علامت تھا، اور آج بے ترتیبی، بدانتظامی اور خودغرضی کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔یہ وہی ریلوے ہے جس کی پٹریوں پر کبھی امید دوڑتی تھی، جس کی سیٹی میں زندگی کی رمق تھی، جس کے ہر اسٹیشن پر انسانیت کا ایک چہرہ مسکراتا تھا۔ مگر آج… وہی پٹریاں سسک رہی ہیں، وہی اسٹیشن خاموش ہیں، اور وہی نظام اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے۔
اور سچ یہی ہے—یہ سب اچانک نہیں ہوا… یہ آہستہ آہستہ بربادی کی طرف دھکیلا گیا۔
جنرل اسٹور: ایک نظام، ایک سوچ، ایک دیانت
انگریز پاگل نہیں تھا۔یہ جملہ سننے میں شاید تلخ لگے، مگر اس میں چھپی حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔جب برطانوی دور میں ریلوے کا نظام قائم کیا گیا تو اس میں ایک بنیادی اصول تھا:مرکزیت (Centralization) اور شفافیت (Transparency)اسی اصول کے تحت ریلوے جنرل اسٹور قائم کیا گیا۔یہ کوئی عام اسٹور نہیں تھا، بلکہ پورے ریلوے نظام کا دل تھا۔یہاں سے:تمام مٹیریل خریدا جاتا تھامعیار کو یقینی بنایا جاتا تھا‘قیمتوں کو کنٹرول کیا جاتا تھااور ہر چیز کا حساب رکھا جاتا تھا‘یعنی ایک ایسا نظام جہاں کنزیومر اور پرچیزر الگ الگ تھے۔
جو چیز استعمال کر رہا تھا، وہ خود خرید نہیں رہا تھا۔یہی اصل حکمت تھی۔
جب اصول ٹوٹتے ہیں تو ادارے بکھر جاتے ہیں‘وقت بدلا… لوگ بدلے… نیتیں بدل گئیں…اور پھر ایک دن وہ ہوا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔کنزیومر کو ہی پرچیزر بنا دیا گیا۔یعنی جو شخص سامان استعمال کر رہا ہے، وہی اسے خرید بھی رہا ہے۔یہاں سے تباہی کا پہلا دروازہ کھلا۔
خودغرضی کا آغاز
جب خریدنے والا اور استعمال کرنے والا ایک ہی ہو تو معیار ختم ہو جاتا ہے کمیشن کلچر جنم لیتا ہے‘سستی اور ناقص چیزیں خریدی جاتی ہیں اور ادارے کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں‘ہر افسر اپنی مرضی کا سامان لینے لگا۔ہر شعبہ اپنی الگ دنیا بنانے لگا۔نتیجہ؟ایک متحد ادارہ، ٹکڑوں میں بٹ گیا۔
ریلوے کا زوال: ایک خاموش المیہ
آج جب ہم پاکستان ریلوے کو دیکھتے ہیں تو ٹریک خستہ حال ہیں کوچز پرانی اور غیر معیاری ہیں‘انجن بار بار خراب ہوتے ہیں‘حادثات معمول بن چکے ہیں‘یہ سب کسی ایک دن کا نتیجہ نہیں ہے۔یہ برسوں کی بدانتظامی، بے احتیاطی اور غلط فیصلوں کا نتیجہ ہے۔حادثات: صرف واقعات نہیں، نظام کی چیخ ہیں‘جب کوئی ٹرین پٹری سے اترتی ہے تو وہ صرف ایک حادثہ نہیں ہوتا۔وہ ایک چیخ ہوتی ہے—ایک ایسے نظام کی چیخ جو اندر سے مر چکا ہو۔ہر ڈریلمنٹ کے پیچھے ناقص مٹیریل‘غیر معیاری پرچیزاور بے توجہی چھپی ہوتی ہے۔اگر بروقت صحیح مٹیریل خریدا جاتا،اگر جنرل اسٹور کا نظام برقرار رہتا،تو شاید آج یہ حالات نہ ہوتے۔ذمہ داری کس کی ہے؟یہ سوال اہم ہے… مگر اس سے بھی زیادہ اہم ہے اس کا جواب۔کیا قصور صرف ایک فرد کا ہے؟نہیں۔یہ ایک اجتماعی ناکامی ہے:پالیسی بنانے والوں کی افسران کی
نظام کو نظر انداز کرنے والوں کی اور خاموش رہنے والوں کی کیونکہ جب غلطی کو روکا نہ جائے تو وہ جرم بن جاتی ہے۔دیانت کا جنازہ
ادارے صرف عمارتوں سے نہیں بنتے،وہ اصولوں سے بنتے ہیں۔اور جب اصول دفن ہو جائیں تو ادارے بھی زندہ نہیں رہتے۔
ریلوے میں دیانت ختم ہوئی ‘احتساب ختم ہوا اور ذمہ داری کا احساس بھی ختم ہو گیا
ہر شخص اپنی بقا کی جنگ لڑنے لگا،اور ادارہ پیچھے رہ گیا۔
ماضی کی جھلک
کبھی ریلوے وقت کی پابندی کی مثال تھا‘معیار کی علامت تھا اور عوام کا فخر تھالوگ فخر سے کہتے تھے:ہم ریلوے میں کام کرتے ہیںمگر آج یہ جملہ بھی بوجھ بن گیا ہے۔کیا حل ممکن ہے؟مایوسی آسان ہے… مگر حل تلاش کرنا مشکل۔لیکن اگر نیت ہو تو راستہ نکل آتا ہے۔
1. جنرل اسٹور کا نظام بحال کیا جائے‘مرکزیت کو واپس لایا جائے‘تمام خریداری ایک ہی جگہ سے ہو
2. کنزیومر اور پرچیزر کو الگ کیا جائے تاکہ مفادات کا ٹکراؤ ختم ہو
3. شفافیت کو یقینی بنایا جائے‘ہر خریداری کا ریکارڈ عوام کے سامنے ہو
4. احتساب کا نظام مضبوط کیا جائے‘غلطی کرنے والے کو سزا ملے—چاہے وہ کوئی بھی ہو
5. مٹیریل کے معیار پر سمجھوتہ نہ کیا جائے‘کیونکہ ایک چھوٹی سی کوتاہی، بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے
احساس کی ضرورت
اصل مسئلہ نظام نہیں‘اصل مسئلہ احساس کا فقدان ہے۔جب تک یہ احساس پیدا نہیں ہوگا  ہم ایک امانت کے نگہبان ہیں‘ہم عوام کی خدمت کر رہے ہیں اور ہمارے فیصلے جانیں بچا بھی سکتے ہیں اور لے بھی سکتے ہیں تب تک کوئی اصلاح ممکن نہیں۔یہ تحریر صرف الفاظ نہیں ہے،
یہ ایک درد ہے‘ایک ایسا درد جو ہر اس شخص کے دل میں ہے جو اس ادارے سے محبت کرتا ہے۔ریلوے صرف ایک محکمہ نہیں،یہ لاکھوں لوگوں کی امید ہے۔اور جب امید ٹوٹتی ہے تو صرف ادارے نہیں بکھرتے‘دل بھی بکھر جاتے ہیںسچ واقعی کڑوا ہوتا ہے مگر یہی سچ ہمیں جگا بھی سکتا ہے۔اگر ہم نے اب بھی خود کو نہ بدلا،تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔مگر اگر ہم نے ہمت کی،اصولوں کو زندہ کیا،اور دیانت کو اپنایا تو وہ دن دور نہیں جب پٹریاں پھر سے مسکرائیں گی،ٹرینیں پھر سے وقت پر چلیں گی اور ریلوے پھر سے فخر بنے گا۔اللہ کرے یہ الفاظ صرف پڑھے نہ جائیں، بلکہ سمجھے بھی جائیں اور شاید، کسی دل میں ایک چنگاری جگا دیں۔جنرل سٹور جو کسی دور میں پاکستان ریلوے کی خوشحالی میں اہم کردار ادا کرتا تھاافسوس آج اسے سکریپ کا ڈپو بنا دیا