رفیع صحرائی
معاشرے میں بعض خطرات ایسے ہیں جو خاموشی سے جڑ پکڑتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے نسلوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ آج نوجوان نسل کے لیے سب سے بڑا خطرہ آئس (شیشہ) اور ویپ (Vape) کی بڑھتی ہوئی لت ہے۔ یہ صرف ایک فیشن یا عارضی رجحان نہیں بلکہ ایک مہلک سماجی المیہ ہے جس کا خمیازہ ہماری نوجوان نسل اور قومی مستقبل کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
آئس دراصل Methamphetamine کی ایک انتہائی طاقتور اور نشہ آور شکل ہے۔ یہ پہلی ہی بار استعمال کرنے پر دماغ میں خوشی کے ہارمونز کو غیر معمولی طور پر متحرک کر دیتا ہے جس سے وقتی طور پر انسان کے اندر شدید خوشی، توانائی اور بے خوفی کا احساس ہوتا ہے۔ مگر یہ وقتی اور عارضی خوشی محض ایک دھوکہ ہے۔ جب نشہ اترتا ہے تو وہی خوشی حاصل کرنے کو دوبارہ من کرتا ہے۔ یوں آئس استعمال کرنے والا جلد ہی اس کا عادی ہو جاتا ہے اور اسی کیفیت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے مقدار بڑھاتا جاتا ہے جس سے جسم اور دماغ دونوں تباہ ہونے لگتے ہیں۔
آئس کا اثر 36 سے 72 گھنٹوں تک رہ سکتا ہے جس دوران انسان مسلسل جاگتا رہتا ہے۔ اس کی بھوک اور نیند ختم ہو جاتی ہے اور دماغی توازن شدید متاثر ہوتا ہے۔ ظاہر ہے ایک خاص حد تک جاگنے اور کام کرنے کے بعد انسانی جسم اور دماغ کو آرام و سکون کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب ریسٹ نہیں کی جائے گی اور ہمت سے چار پانچ گنا زیادہ کام لیا جائے گا تو انسانی اعضاء، اعصاب اور دماغ کا بری طرح تھکاوٹ کا شکار اور مضمحل ہونا لازم ہے۔ اس کیفیت کو دور کرنے کے لیے اور جوش و خوشی دوبارہ حاصل کرنے یعنی انسان اپنی جسمانی مشین کو زیادہ فعال اور متحرک رکھنے کے لیے بار بار نشے کا سہارا لیتا ہے جو اس کے جسم اور دماغ کو کمزور اور کھوکھلا کر دیتا ہے۔ اس کے طویل استعمال سے یادداشت، فیصلہ سازی، جذباتی توازن اور سماجی رویے بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ بعض افراد اس کے استعمال سے Psychosis جیسے خطرناک عارضے میں مبتلا ہو جاتے ہیں جہاں حقیقت اور وہم میں تمیز ختم ہو جاتی ہے۔
ویپ کو آپ الیکٹرانک سگریٹ یا حُقہ کہہ سکتے ہیں جو بظاہر معصوم اور جدید لگتا ہے لیکن بعض ویپ مائعات میں نکوٹین کے ساتھ ساتھ آئس جیسے خطرناک مادے بھی شامل کیے جا رہے ہیں جو نوجوانوں کو آہستہ آہستہ شدید نشے کی طرف لے جاتے ہیں۔ ویپ دماغ میں خوشی کے ہارمونز کو غیر فطری طور پر متحرک کرتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے آئس کرتا ہے۔ نوجوان ابتدائی طور پر اسے محض تفریح سمجھ کر استعمال کرتے ہیں
مگر رفتہ رفتہ یہ عادت شدید لت میں بدل جاتی ہے اور مہلک منشیات کی طرف بڑھنے کا خطرہ پیدا کرتی ہے۔
ویپ اور آئس کا بڑھتا ہوا رجحان ملک و قوم کے مستقبل کے لیے شدید خطرہ پیدا کر رہا ہے۔ اس خطرے کے پیش نظر حکومت اور معاشرے کو فوری اور ہمہ جہت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جن میں سخت قانون سازی اور زیرو ٹالرنس پالیسی، آئس اور دیگر منشیات کی تیاری، ترسیل اور فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرناشامل ہیں۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں لازمی آگاہی پروگرام شروع کرنا بہت ضروری ہے۔ تعلیمی اداروں اور کمیونٹی کی سطح پر سیمینارز اور واک کا انعقاد کر کے نوجوانوں کو نشہ آور مواد کے نقصانات کے بارے میں شعور دینا وقت کا تقاضا ہے۔ اس کے لیے لمبے چوڑے اہتمام کی ضرورت بھی نہیں۔ مقامی پولیس کے ایس ایچ اوز علاقہ معززین اور سیاسی راہ نماؤں کے ساتھ مل کر اپنے علاقے کے اسکولز اور کمیونٹی مراکز میں سیمینارز اور واک کا اہتمام آسانی سے اور بخوبی کر سکتے ہیں۔
ویپ کی نگرانی کو مؤثر اور مسلسل بنانا ضروری ہے۔ نوجوانوں تک اس کی رسائی کو مکمل طور پر روکا جائے اور اس میں شامل خطرناک مادوں کی جانچ یقینی بنائی جائے۔ زیادہ مناسب تو یہی ہے کہ اس پر قانون سازی کر کے سخت سزائیں تجویز کی جائیں۔ اس کے علاوہ اس لت میں مبتلا نوجوانوں کو صحت مند زندگی کی طرف واپس لانے کے لیے حکومتی سطح پر کم از کم ہر ضلع میں اور اگر ممکن ہو تو تحصیل کی سطح پر معیاری بحالی مراکز کا قیام عمل میں لایا جائے جہاں پر علاج، نفسیاتی مدد اور معاشرتی بحالی کی سہولیات فراہم کی جائیں۔
سبھی جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں منشیات کی اسمگلنگ زیادہ تر سرحد پار سے ہوتی ہے۔ ہمیں اپنا سرحدی اور انٹیلی جنس کنٹرول مضبوط کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے ملک کے اندر ان کی ترسیل کو روکنا ہو گا۔ یہی کافی نہیں ہے۔ ملک اور قوم کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والے موت کے سوداگر منشیات فروش اور منشیات کیریئر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ ان کا خاتمہ کرنے کے لیے انتہائی سخت سزائیں مقرر کرنا ضروری ہے۔ ان کے لیے الگ عدالتوں کا قیام اور تیس دن کے اندر کیس کا فیصلہ لازم قرار دینا چاہیے۔
منشیات کی لت سے نوجوانوں کو بچانے کے لیے والدین اور اساتذہ کی تربیت بھی بہت ضروری ہے تاکہ وہ ابتدائی علامات کی پہچان کر کے اور بروقت مداخلت کر کے قیمتی جانیں بچا سکیں۔ ایک اور ضروری قدم یہ اٹھایا جائے کہ الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے آئس اور ویپ کو ایک فیشن نہیں بلکہ مہلک خطرہ کے طور پر اجاگر کیا جائے۔
آئس اور ویپ صرف ایک رجحان نہیں بلکہ ایک مہلک اور ابھرتا ہوا قومی مسئلہ ہیں۔ نوجوان نسل کو اس زہر سے محفوظ رکھنے کے لیے والدین، اساتذہ، حکومت اور معاشرہ، سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ بروقت آگاہی، تربیت، قانون سازی اور بحالی مراکز کے ذریعے ہم اس خطرے کو کم کر سکتے ہیں، ورنہ ہماری نوجوان نسل کا مستقبل تاریک ہو سکتا ہے۔